اسلام آباد میں سابق سفیر کی بیٹی کا قتل،وزیراعظم عمران خان کا نوٹس

اسلام آباد میں سابق سفیر کی بیٹی کا قتل،وزیراعظم عمران خان کا نوٹس

وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے سیاسی روابط ڈاکٹر شہباز گل نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نور مقدم کے بہیمانہ قتل کے واقعہ پر بہت رنجیدہ ہیں اور انہوں نے اس واقعے کا ذاتی طور پر نوٹس لے لیا ہے۔

خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل نے مقتولہ نور مقدم کے اہلخانہ سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات اور نور مقدم کے قتل پر تعزیت کی۔

ملاقات کے بعد انہوں نے نور مقدم کے گھر کے باہر میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نے آئی جی اسلام آباد کو خصوصی ہدایات جاری کردی ہیں اور کہا ہے کہ اس معاملے کو ٹیسٹ کیس کے طور پر لیا جائے اور ہر صورت نور مقدم کے اہلخانہ کو انصاف فراہم کیا جائے۔

شہباز گل نے مزید کہا کہ وزیراعظم نے کہا ہے حکومت متاثرہ خاندان کے ساتھ ہے، ایسے ہر واقعے میں متاثرہ خاندان کوانصاف ملنا چاہیے، عدالت سے اپیل کرتے ہیں کہ انصاف کے تمام تقاضوں کو پورا کیا جائے ہم اس کیس کو ہر صورت منطقی انجام تک پہنچانا چاہتے ہیں۔

ڈاکٹر شہباز گل کے مطابق وزیر داخلہ شیخ رشید اور وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری کا پورا فوکس اس کیس پر ہے، دونوں وزراء پولیس کے ساتھ مکمل طور پر رابطے میں ہیں۔

اس موقع پر میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے نور مقدم کے والد شوکت مقدم کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان اور حکومت کے شکر گزار ہیں، یہ حکومت تحریک انصاف کی ہے اورہم انصاف کے منتظر ہیں، امید ہے انصاف ملے گا اگر نہ ملا تو کسی کو نہیں چھوڑوں گا۔

انہوں نے کہا یہ قتل کا واقعہ اور سادہ سا کیس ہے، ہماری بچی بالکل معصوم تھی، قاتل کوئی پاگل شخص نہیں ہے، اس قاتل کو ڈھونڈنے کی ضرورت بھی نہیں ہے وہ سامنے موجود ہے۔

واضح رہے کہ 20مئی کو لاہور کے علاقے ایف سیون فور میں 28 سالہ نور مقدم کو تیز دھار آلے سے گلا کاٹ کر قتل کردیا گیا تھا، اسلام آباد کے تھانہ کوہسار میں نور کے والد مختلف ممالک میں پاکستان سفیر کی حیثیت سے فرائض سرانجام دینے والے شوکت مقدم کی مدعیت میں مقدمہ درج کرکے قاتل کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >