نورمقدم کیس: پولیس نے ملزم کی والدہ، والد اور گھریلو ملازمین کو گرفتار کرلیا

نورمقدم قتل کیس میں بڑی پیش رفت۔ پولیس نے نور مقدم قتل کیس میں ملزم ظاہر جعفر کے والدین کو بھی گرفتار کر لیا ۔

تفصیلات کے مطابق ہفتہ کی شب پولیس نے ملزم ظاہر جعفر کے والد ذاکر جعفر اور والدہ عصمت آدم جی کو گرفتار کر کے شاملِ تفتیش کر لیا ہے جبکہ ڈی سی اسلام آباد کے مطابق تھیراپی ورکس نامی بحالی مرکز کو سیل کرنے کے احکامات جاری کردئیے گئے ہیں۔

پولیس کے مطابق مدعی شوکت مقدم جو کہ مقتولہ نور کے والد ہیں ، انکے بیان اور اب تک موجود شواہد کی روشنی میں گرفتار ملزم ظاہر ذاکر جعفر کے والد ذاکر جعفر، والدہ عصمت آدم جی، گھریلو ملازمین افتخار اور جمیل کو شواہد چھپانے اور جرم میں اعانت کے الزامات پر گرفتار کر لیا گیا ہے۔

پولیس نے نور مقدم کے والد شوکت مقدم کا بھی تفصیلی بیان ریکارڈ کیا۔ علاوہ ازیں پولیس نے ملزم کے خانساماں اور چوکیدار سمیت مزید ایک ملازم کو حراست میں لے لیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کے والدین اور گھریلو ملازمین سمیت متعدد افراد کو شامل تفتیش کیا جا رہا ہے جن کا اس قتل کے ساتھ بطور گواہ یا کسی اور حیثیت میں کوئی تعلق ہوسکتا ہے۔

دوسری طرف سابق سفیر پاکستان شوکت مقدم نے حکومت سے بیٹی کے قتل کے مقدمے میں انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاقاتل کوئی پاگل نہیں ہے، وہ ایک کمپنی کا ڈائریکٹر رہا، بعض حلقے جان بوجھ کر اسے پاگل یا نفسیاتی مریض بتا رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ ایک صاف کیس ہے اور قاتل سامنے کھڑا ہے، جب قتل کیا گیا تو قاتل کو چوکیدار نے بھی دیکھا۔

خیال رہے کہ عید سے ایک روز قبل ملزم ظاہر جعفر نے نورمقدم کا قتل کیا تھا اور اسکا سر دھڑ سے الگ کردیا تھا جس کے بعد پولیس نے ظاہر جعفر کو گرفتار کرلیا تھا۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>