سیاحوں کی ریکارڈ تعداد میں وادی کاغان آمد ،شدید رش، سڑکوں پر ٹریفک جام

عید الاضحی پر ریکارڈ تعداد میں سیاح خیبر پختونخوا کے ضلع مانسہرہ کی وادی کاغان پہنچ گئے ہیں، ہزاروں گاڑیوں کے باعث سیاحتی مقام پر ٹریفک کی آمدورفت متاثر ہوئی، سڑکوں پر ٹریفک جام ہو گئی۔

تفصیلات کے مطابق اس عید الاضحی پر سیاحوں کی بڑی تعداد مسحور کن وادی کاغان کی خوبصورتی دیکھنے کے لئے پہنچ گئی۔

محکمہ پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق عید کی چھٹیوں کے دوران 700،000 کے قریب گاڑیاں وادی میں داخل ہوئیں، جس کے بعد وادی میں پانچ لاکھ گاڑیاں داخل ہونے کا گزشتہ ریکارڈ ٹوٹ گیا۔

عیدالاضحی کے پہلے 4 دنوں میں مانسہرہ، ناران، جلکھنڈ روڈ جو گلگت بلتستان کے راستے سے وادی کاغان کی طرف جاتی ہے، شدید ٹریفک کا شکار رہی، جبکہ انتہائی خستہ حال سڑک کی صورتحال پانچویں دن بھی بدستور رہی۔

ضلعی پولیس آفیسر آصف بہادر نے بتایا کہ ہم نے اس دلکش وادی میں تقریبا 0.7 ملین گاڑیوں میں سیاحوں کا خیرمقدم کیا ہے اور چھٹی کے پانچویں روز بھی فطرت سے محبت کرنے والوں کی آمد اپنے عروج پر ہے۔

انہوں نے کہا کہ وادی میں ریکارڈ تعداد میں سیاحوں کی آمد کے باوجود پولیس ٹریفک کی روانی کو منظم کرنے کی پوری کوشش کر رہی ہے۔

ایک سیاح نے بتایا کہ بالاکوٹ سے ناران جانے میں اسے 12 گھنٹے لگے، جو عام طور پر تقریبا تین گھنٹے کا سفر ہے۔

زیادہ تر سیاحوں کو اپنی راتوں کو گاڑیوں یا سڑکوں کے کنارے گزارنا پڑتا تھا کیونکہ پوری وادی کے ہوٹلوں میں مزید سیاح ٹھہرانے کی گنجائش نہیں بچی تھی۔

ہفتے کے آخر تک ایم این جے روڈ پر ٹریفک جام کے علاوہ جھیل سیف الملوک کو دیگر علاقوں سے جوڑنے والی سڑکوں کا بھی یہی حال رہا۔

کچھ سیاحوں نے علاقے میں سیاحوں کی اتنی بڑی تعداد کو سنبھالنے کے لئے مزید سہولیات کی ضرورت پر بھی توجہ دلائی۔

اس عید پر غیر ملکی سیاحوں کی بڑی تعداد نے بھی وادی کاغان کی سیر کی اور انہیں مقامی تاجر برادری کی طرف سے دی جانے والی مہمان نوازی کے ساتھ ساتھ مقامی ثقافت اور کھانوں سے بھی لطف اندوز ہوتے دیکھا گیا۔

ایک مقامی ہوٹلوں کی چین کے ڈائریکٹر حسین دین کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے سیاحت کی صنعت کے لئے وضع کردہ کورونا وائرس ایس او پیز کی سختی سے عملدرآمد کیا جارہا ہے۔

  • وادی کے دکان دار سیاحوں کو انتہائی مہنگی چیزیں دے کر دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں جنہیں پوچھنے والا کوئی نظام ہی نہیں ہے


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >