خواتین جو مرضی پہنیں ریپ کرنے والا ہی ذمہ دار ہے:وزیر اعظم،امریکی ٹی وی کو انٹرویو

ماضی میں خواتین کے لباس سے متعلق دیئے گئے بیان پر وزیراعظم عمران خان نے اپنا مؤقف تبدیل کر لیا انہوں نے اب کہا ہے کہ خواتین جو مرضی پہنیں لیکن جو شخص ریپ کرتا ہے وہی اس کا ذمہ دار ہے، خواتین کے لباس سے متعلق میرے ماضی کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا۔

ایک غیر ملکی ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویو میں عمران خان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے بیان میں پردے کا لفظ استعمال کیا، پردے کا مطلب صرف لباس نہیں، پردہ صرف خواتین کے لیے ہی نہیں ہے، مردوں کے لیے بھی ہے، اسلام خواتین کو عزت واحترام دیتا ہے۔ اسلام میں پردے کا مقصد بگاڑ کو روکنا ہے۔

وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ پاکستانی معاشرے میں جنسی جرائم میں تیزی سے بڑھ رہے ہیں، جنسی جرائم کو صرف خواتین سے نہیں جوڑا جا سکتا کیونکہ خواتین ہی نہیں بچے بھی جنسی جرائم کا شکار ہوتے ہیں۔ پاکستان میں زیادتی کے واقعات کا موازنہ مغرب سے کیا جاتا ہے حالانکہ پاکستان میں زیادتی کے واقعات مغرب کے مقابلے میں بہت کم ہیں۔

یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے اپنے ایک گزشتہ انٹرویو میں کہا تھا کہ اگر خواتین بہت مختصر لباس پہنیں گی تو اس کا مردوں پر اثر ہوگا تا وقت یہ کہ وہ روبوٹ ہوں، میرا مطلب عمومی سمجھ کی بات ہے کہ اگر آپ کا معاشرہ ایسا ہو کہ جہاں لوگوں نے ایسی چیزیں نہ دیکھی ہوں تو اس کا ان پر اثر ہوگا۔عمران خان کے اس بیان پر انہیں سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور معروف صحافیوں سمیت سیاستدان اور سماجی رہنما بھی ان پر تنقید کرتے دکھائی دیئے۔

دوسری جانب حالیہ انٹرویو میں ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ افغانستان میں خانہ جنگی کے خدشات ہیں، سیاسی تصفیہ ہی افغانستان کے مسئلے کا حل ہے، اگر سیاسی تصفیہ نہیں ہوتا تو افغانستان میں خانہ جنگی ہوسکتی ہے اور اگر ایسا ہوتا ہے تو بھیانک صورتحال ہوگی۔

عمران خان نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ نقصان پاکستان کا ہوا، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی معیشت کو 150ارب ڈالر کا نقصان ہوا، پاکستان کی معیشت مزید افغان مہاجرین کا بوجھ نہیں اٹھا سکتی۔ اشرف غنی کو انتخابات میں تاخیر کرنی چاہیے تھی، افغانستان کا پاکستان پر جہادی بھیجنے کا الزام بے بنیاد اور بیوقوفانہ ہے، افغانستان جہادی بھیجنے کے ثبوت کیوں نہیں فراہم کرتا؟

انہوں نے کہا کہ ہم پر الزام لگایا گیا ہے کہ ہم نے طالبان کو محفوظ ٹھکانے دیئے ثبوت کہاں ہیں، نائن الیون کے بعد امریکا کا ساتھ دیا تو ملک بھر میں خودکش حملے ہوئے۔ ہم افغانستان میں امن چاہتے ہیں کسی محاذ آرائی کا حصہ نہیں بننا چاہتے، پاکستان نے افغان جنگ کا حصہ بن کر 70 ہزار جانیں قربان کیں۔ ہم اب مزید کسی کی جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے، پاکستان اب مزید کسی جنگ کا متحمل نہیں ہوسکتا۔

وزیراعظم نے کہا ملکی معیشت کی بحالی چاہتے ہیں، جب پاکستانی حکومت نے امریکی جنگ میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا تو ملک تباہ ہوگیا، ابتر صورتحال کی وجہ سے خانہ جنگی پاکستان میں امڈ سکتی ہے۔ طالبان جنگجو نہیں عام شہری کی طرح ہیں، انہیں کیسے تلاش کیا جائے۔ افغانستان میں ناکامی کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرایا جارہا ہے، پاکستان کا موقف واضح ہے کہ امریکا اور طالبان مذاکرات کی میز پر آئیں، امریکا اور طالبان کو ایک میز پر لانے کے لیے ہم نے کردار ادا کیا۔

انہوں نے کہا افغان عوام کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ کس قسم کی حکومت چاہتے ہیں، سب نے دیکھا افغان مسئلے کا فوجی حل ناکام ہوا، جب کہا کہ افغان مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں تو مجھے طالبان خان کہا گیا۔ جب افغانستان میں 150 ہزار نیٹو فوجی تھے وہ وقت تھا کہ کوئی سیاسی حل نکالا جاتا، جب افغانستان سے انخلا کی تاریخ دی گئی تو طالبان نے سوچا کہ وہ جنگ جیت گئے، اب مشکل ہے کہ طالبان کو کسی سیاسی حل کی طرف لایا جائے، طالبان سمجھتے ہیں وہ جیت چکے۔ امریکا نے افغانستان میں ستیاناس کردیا، امریکا جس مقصد کے لئے بھی افغانستان گیا اس کا طریقہ کار ٹھیک نہیں تھا۔

  • theek to keh raha hai, zimadar to rape kerney wala hai.
    And i dont know k jab IK ne kaha ho k rape kerney wala beqasoor hai.
    Khawateen k dress code ka context different hai, her country ka apna dress code hota hai, Pakistan ka dress code islam k mutabik hai. I am in sweden idher bhi koi banda ya khawateen nangi nahi a sakti bahir aur ye qabl e saza jurm hai.

  • Log apni bachiyon ko phir kyun chupa kar rakhtay hain, janay dain har jagah short skirts mai. They failed to understand Allah nay mard ko banaya hi aisa hai and these things triggers it and resulted into such incidents.


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >