کوہ پیما ساجد سدپارہ والد علی سدپارہ کا جسد خاکی کیمپ تک لانے میں کامیاب ہوگئے

 کوہ پیما ساجد سدپارہ والد علی سدپارہ کا جسد خاکی کیمپ تک لانے میں کامیاب ہوگئے

دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی سر کرنے کی مہم کے دوران جاں بحق  ہونے والے پاکستانی کوہِ پیما علی سدپارہ کا جسد خاکی ان کے بیٹے ساجد سدپارہ کیمپ 4 تک لانے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق کوہ پیما ساجد سدپارہ اپنے والد کاجسد خاکی کیمپ 4 تک لانے میں کامیاب ہوگئے، ساجد سدپارہ غیرملکی کوہ پیماؤں ایلیا سیکلے اور پسانگ شرپا کے ساتھ گزشتہ دنوں اپنے والد اور اُن کے ساتھ ہلاک ہونے والے آئس لینڈ کے معروف کوہ پیما جان سنوری کی لاشیں تلاش کرنے کے۔ٹو کی مہم جوئی پر روانہ ہوئے تھے۔

مہم جوئی سے کامیاب واپسی کے بعد انہوں نے بتایا کہ پاکستانی ہیرو کا جسد خاکی کیمپ 4 میں محفوظ کرلیا ہے، ارجنٹینا کوہ پیما نے بوٹل نک سے جسد خاکی لانے میں مدد کی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ انہوں نے پوری قوم کی جانب سے قومی ہیرو علی سدپارہ کے لئے فاتحہ خوانی اور تلاوت بھی کی جبکہ ان کے جسد خاکی کی جگہ پاکستان کا جھنڈا بطور نشانی لگا دیا ہے تاکہ آئندہ اس مقام کو باقاعدہ شناخت مل سکے۔

واضح رہے کہ دو روز قبل کے۔ٹو بیس کیمپ کے قریب کوہ پیما دو افراد کی لاشیں تلاش کرنے میں کامیاب ہوئے جن کی شناخت علی سدپارہ اور جان سنوری کے ناموں سے ہوئی۔

دونوں کوہ پیماؤں کی جسد خاکی واپس لانے کے لیے آپریشن شروع کرنے پر غور کیا گیا تو کوہ پیما ساجد سدپارہ کا کہنا تھا کہ انتہائی تکنیکی، خطرناک ڈھلان کی وجہ سے واپسی میں مشکلات ہیں، میں نے آج صبح کے۔ٹو سر کرلیا ہے، کے۔ٹو بوٹل نک سے لاشوں کو لانے میں خطرہ ہے ، فیملی اور ماہرین سے مشاورت کے بعد لاشوں کی واپسی کا کام ہوگا۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >