نذیر چوہان کے نفرت انگیز بیان سے میری اور اہلخانہ کی جان کو خطرہ ہے، شہزاد اکبر

وزیرِ اعظم عمران خان کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ جہانگیر ترین گروپ کے رکن پنجاب اسمبلی نذیر چوہان کے نفرت انگیز بیان سے میری اور اہلخانہ کی جان کو خطرہ ہے۔

تفصیلات کے مطابق نذیر چوہان کی گرفتاری پر مشیر احتساب شہزاد اکبر تنقید کی زد میں ہیں جس پر شہزاداکبر نے وضاحت دی کہ نذیر چوہان نے نجی ٹی وی کے انٹرویو میں مجھ پر جھوٹا الزام لگایا ۔

اپنے ٹویٹس میں شہزاداکبر کا کہنا تھا کہ شہزاد اکبر کا کہنا ہے کہ نذیر چوہان نے اپنے انٹرویو میں مجھے قادیانی قرار دیا اور کہا کہ نذیر چوہان نے ایک مذموم سازش کے تحت مجھ پہ قادیانی ہونے کا جھوٹا الزام لگایا اور اسکا برملا پرچار کیا

شہزاد اکبر کا مزید کہنا تھا کہ میں نے اس الزام کی تردید کی اور باقاعدہ طور پہ اپنے سنی العقیدہ اور ختم نبوت پہ اپنے ایمان کا اعادہ کیا-اسکے باوجود نذیر نے جھوٹی مہم چلائی جس سے نہ صرف ملک میں مذہبی منافرت پھیلی بلکہ میری اور میرے اہل عیال کی جان کو خطرے میں ڈالا ۔

انہوں نے مزید کہا کہ معاملہ عدالت میں ہے ، اپنے منطقی انجام کو پہنچے گا اور مجھے انصاف ملے گا، ہمیں معاشرے میں مذہبی منافرت پھیلانے والوں سے سختی سے نبٹنا پڑے گا،اگر ہر شہری اپنے حق کیلیے کھڑا ہوگا تو ان شدت پسند عناصر کو شکست ہو گی

مشیر احتساب شہزاد اکبر کی درخواست پر لاہور کے تھانہ ریس کورس میں نذیر چوہان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے جس میں دھمکیاں دینے اور دیگر دفعات شامل کی گئی ہیں۔

مشیر احتساب شہزاد اکبر نے درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ ان جھوٹے الزامات سےناصرف میرے مذہبی جذبات مجروح ہوئے بلکہ عوام کے دل میں میرے خلاف نفرت پیدا ہونے کا خدشہ ہے، میری اور اہلخانہ کی جان کو شدید خطرہ لاحق ہے۔

پولیس اور ایف آئی اے نے قانون کے تحت ایف آئی آر درج کرلی ہے، جبکہ تفتیش کے دوران الزام ثابت ہونے پر نذیر چوہان کو گرفتار بھی کرلیا گیا۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >