کراچی میں 6 سالہ بچی ماہم سے زیادتی وقتل کا ملزم ذاکر عرف انڈولا گرفتار

کراچی میں 6 سالہ بچی ماہم سے زیادتی وقتل کا ملزم گرفتار۔۔رکشہ ڈرائیور ذاکر نامی جنسی درندے نے اعتراف جرم کرلیا۔۔ ملزم کی بچی کی لاش کو کچراکنڈی میں پھینکنے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آگئی

تفصیلات کے مطابق پولیس نے ایک رکشہ ڈرائیور کو چھ سالہ بچی ماہم سے زیادتی اور قتل کے الزام میں گرفتار کرلیا۔۔ رکشہ ڈرائیو کا نام ذاکر عرف انڈولا بتایا جارہا ہے۔ پولیس نے جنسی درندے کو ایک عینی شاہد کی شناخت اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے گرفتار کیا۔

پولیس ذرائع کے مطابق ملزم نشہ کرتا تھا اور اس نے نشہ کی حالت میں رات ساڑھے 11 بجے بچی کو بے ہوش کرکے ایک گلی سے اغوا کیا اور راستے میں بچی کو زیادتی کا نشانہ بنایا۔ ملزم زیادتی کے وقت بھی نشے کی حالت میں تھا۔

پولیس نے مزید بتایا کہ بچی کو جب ہوش آیا تو اس نے رکشے سے چھلانگ لگائی جس سے اس کی گردن کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ ملزم نے بچی کو مردہ حالت میں اٹھایا اور راستے میں پڑے ایک کپڑے میں لپیٹ کر بچی کی لاش کو کچرا کنڈی میں پھینک دیا۔

بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد ملزم نے ملتان بھاگنے کی کوشش کی اور اپنے گھر والوں کو بتایا کہ وہ ایک سواری چھوڑنے آرہا ہے لیکن انٹیلی جنس اطلاعات پر ملزم کو گرفتار کرلیا گیا۔

پولیس کے مطابق ملزم ماضی میں ایک سیاسی جماعت کا سرگرم کارکن بھی رہ چکا ہے اور اسے مزید تفتیش جاری ہے۔

اس سے قبل پولیس نے ماہم قتل کیس میں 2 عینی شاہدین کو حفاظتی تحویل میں لیا تھا۔ عینی شاہد شعیب ‏نے پولیس کو بیان ریکارڈ کراتے ہوئے بتایا کہ صبح 5بجےرکشے والا آیا اور کچراکنڈی میں کچھ ‏پھینک کرفرارہوگیا۔

عینی شاہد کا کہنا تھا کہ رکشہ کی لائٹ تیزہونے کی وجہ سے ‏ڈرائیور کی شکل نہیں دیکھ سکا، تاہم ڈرائیورنےسرخ رنگ ‏کاکیپ لگایا ہوا تھا،مجھے شک ہونے پر جاکر کپڑا کھولا تو اندرسےبچی کی لاش نکلی۔

خیال رہے کہ زمان ٹاؤن سے لاپتہ 6 سالہ بچی کی لاش برآمد ہونے پر لاش کا پوسٹ ‏مارٹم کرایا گیا ،لیڈی ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ بچی سے پہلے زیادتی کی گئی اس کےبعد قتل کیا گیا۔

ابتدائی رپورٹ کے مطابق ماہم کو ناک اور منہ بند ‏کرکے قتل کیا گیا اور قتل کےدوران ہی زور لگانے سےگردن کی ہڈی ٹوٹی۔لیڈی ڈاکٹر نے کہا کہ ڈی این ‏اے سمیت دیگر تمام نمونےحاصل کرلیے ہیں، رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگا کہ کتنے افراد نے ‏زیادتی کی۔

  • بچی کو ہوس کا نشانہ بنا کریوں قتل کردیا جیسے کوی استعمال شدہ کنڈوم پھینک دیتا ہے
    ایسے حیوانوں کو پھانسیاں زیادہ سے زیادہ ایک ہفتے میں دی جانی ضروری ہیں ان کو دس سال قید بھی سنا دی جاتی ہے جسے کاٹنے کے بعد عموما یہ رہا ہوجاتے ہیں یا لوگوں کے دماغوں سے واقعہ محو ہوجاتا ہے
    فوری سزا بہت ضروری ہے دس سال بعد سزا دی تو کیا دی

  • Isne jurm qabool Kia, ab isko forun saza do, isko q rakha hua, isko ek lmha jenay ka haq ni,in kutton ko q rakhtay ho jail me, ye napaak hain, ye is Zameen pe bojh hain inko forun phaansi do ..jahanum rseed kro inko…


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >