نور مقدم قتل کیس کو دیت یا قصاص سے حل کیا جا سکتا ہے؟

عید سے ایک دن قبل اسلام آباد کے پوش سیکٹر ایف سیون میں بہیمانہ طریقے سے قتل کی جانے والی نور مقدم کے کیس کی تحقیقات جاری ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر کیس میں نئے حقائق اور شواہد سامنے آ رہے ہیں، اس کے علاوہ اس کیس کی ممکنہ حل کے بارے میں بھی باتیں منظر عام پر آنے لگی ہیں۔

نور مقدم قتل کیس میں تحقیقات کے لئے پولیس نے ملزم ظاہر جعفر اور اسکے والدین کو حراست میں لے رکھا ہے، ملزم کے والدین کو مبینہ طور پر شریک جرم کے الزام میں حراست میں لیا گیا ہے۔

ملزم ظاہر جعفر کے والد ذاکر جعفر اور والدہ عصمت آدم جی معروف کاروباری پس منظر رکھتے ہیں اور ان کا شمار ملک میں بڑے اثرورسوخ والے مالدار افراد میں ہوتا ہے اور یہ امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ ملزم کے اہلخانہ کی جانب سے اثرورسوخ کا استعمال کر کے نور مقدم قتل کیس کو دیت یا قصاص کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

نور مقدم قتل کیس کے وکیل شاہ خاور نے نجی ٹی وی کے نیوز پروگرام میں کیس پر تفصیلی گفتگو کی۔

اینکر کی جانب سے سوال کیا گیا کہ کیا نور مقدم قتل کیس کو بھی دیت یا قصاص کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جاسکتی ہے یا پھر اس حوالے سے دباو ڈالا جاسکتا ہے جس کے جواب میں وکیل شاہ خاور کا کہنا تھا کہ مذکورہ کیس میں اس بات کا تاحال امکان نظر نہیں آرہا۔

شاہ خاور کا مزید کہنا تھا کہ متعدد کیسز ایسے ہیں کہ جن میں مشترکہ دوست کے ذریعے معاہدے ہوجاتے ہیں اور راضی نامہ کروادیا جاتا ہے۔

شاہ خاور نے اس موقع پر قانون کی دفعہ 311 کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ اگر قصاص یا راضی نامے کا معاملہ آجائے لیکن جج سمجھے ہے کہ یہ قتل انتہائی بہیمانہ طور پر کیا گیا تو قانون کے تحت جج کو اختیار حاصل ہے کہ وہ مجرم کو تعزیر کے تحت سزا سنائے۔

ایک اور سوال کے جواب میں نور مقدم کے وکیل کا کہنا تھا کہ کیس  ملک بھر کی عوام کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے اور عوام کی ہمدردیاں بھی ساتھ ہیں تو پولیس کی جانب سے کسی دباؤ کی صورت میں بھی کمپرومائز کا امکان کم ہے۔

اینکر کی جانب سے شواہد کو مبینہ طور پر مسخ کئے جانے کا سوال کیا گیا جس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جرم میں مجرم کا پہلا بیان انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے اور اس کیس میں بھی ملزم نے ہوش و حواس میں اپنے جرم کا اقرار کرتے ہوئے اسکے محرکات بھی بتائے، اپنا بیان یکارڈ کرواتے ہوئے ملزم کسی کے زیر اثر نہیں تھا۔

وکیل شاہ خاور نے مزید کہا کہ شاید اس کا ٹرائل کورٹ کے جج یا جج پر اثر پڑ ا ہوگا۔

وکیل خاور شاہ نے ماضی کے کچھ کیسز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکی شہری ریمنڈ ڈیوس کو دیت یا قصاص لے کر عدالت سے بری کردیا گیا تھا ، ریمنڈ ڈیوس پر پنجاب میں دو افراد کو دن دیہاڑے فائرنگ کرکے قتل کرنے کا الزام تھا جبکہ شاہ رخ جتوئی کے کیس کا پس منظر بھی ایسا ہی تھا۔

دوسری جانب اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ سیشن کورٹ نے نورمقدم قتل کیس میں مدعی کو وکیل کرنے کی مہلت دیتے ہوئے شریک ملزمان ذاکرجعفر اور عصمت آدم جی کی درخواست ضمانت پر سماعت 4 اگست تک ملتوی کردی۔

واضح رہے کہ تھانہ کوہسار کے علاقے ایف سیون فور میں پاکستان کے سابق سفیر شوکت مقدم کی 28 سالہ بیٹی نور مقدم کو تیز دھار آلے سے گلا کاٹ کر قتل کیا گیا تھا۔

  • Ab tak na maloom kitan paisa magistrates aor wakeelon ko khila diya giya hoga. jisk wajah sey abtak section 64 key taht mujrim ka biyan nahiyn karwaiya ja reha- muamela latkaiya ja reha hey- sawal yeh hey ki agar mujrim paisa dey ker choot giya-to kiya is tarah ki mujrim khuley aam phireyn gey- pakistan mey to America ki tarah paaon meyn ya bazoo per petta (band) bhi nahiyn charhaiya jata- merey watan meyn- zeyneb ka qatil latka diya ga woh gharib tha- noor ka qatil choot jaye ga woh ameer hey?kiya ameer ghareeb keliye do tarh ka insaf hoga?


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >