ننھی ماہم کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والا ملزم کون ہے؟ والد کے انکشافات

کراچی: پولیس نے کورنگی زمان ٹاؤن میں 6 سالہ کمسن بچی ماہم کو اغوا کرکے تشدد اور زیادتی کا نشانہ بنانے کا کیس حل کرلیا، زیرحراست ملزم ذاکر عرف انڈولا کا ڈی این اے میچ کرجانے پر اسے باقاعدہ گرفتار کرلیا گیا،

ڈی آئی جی ایسٹ نے بتایا کہ گرفتار ملزم ذاکر عرف انڈولا متاثرہ خاندان کا محلے دار ہے، جس علاقے سے کمسن بچی کو اغوا کیا گیا وہاں روزانہ بجلی کی فراہمی معطل ہوجاتی ہے، ملزم اندھیرے اور بچی کے ساتھ شناسائی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسے بھلا پھسلا کر اپنے ساتھ لے گیا اور زیادتی کے بعد اسے اس لیے قتل کردیا کہ بچی اسے جانتی تھی۔

میڈیا سے گفتگو میں ماہم کے والد عبدالخالد نے کہا کہ ملزم ذاکر ہمارے ساتھ اٹھتا بیٹھتا کھاتا پیتا تھا۔ہمیں نہیں معلوم تھا کہ ہمارے ساتھ درندہ صفت انسان موجود ہے، مجھے معلوم ہوتا کہ یہ جانور ہے تو پہلے ہی اسے محلے سے نکال دیتا۔

ماہم کے والد نے مزید کہا کہ ملزم ذااکر 2 بچوں کا باپ ہے، ذاکر کی بیٹی ماہم سے ڈیڑھ سال بڑی ہے اور ماہم کی دوست تھی۔ملزم نے یہ نہیں سوچا کہ اس معصوم بچی سے تھوڑی بڑی اس کی بیٹی ہے، ملزم نے گھناؤنی حرکت سے پہلے اس میں اتنی غیرت وشرم آجاتی کہ اس کی بھی اپنی بیٹی ہے۔

ننھی ماہم کے والد نے اپیل کی ایسے ملزم کو سرعام سزائے موت ہونی چاہیے۔

اُن کا کہنا تھا کہ جس کے ساتھ ملزم یہ حرکت کر رہا تھا وہ اسے چاچا کہتی تھی، ذاکر نے یہی سوچا کہ میں غریب آدمی ہوں، رو دھو کرچپ کرجاوں گا۔

واضح رہے کہ کچھ روز قبل کراچی کے علاقے کورنگی میں 6 سالہ بچی سے زیادتی کی گئی اور پہچان چھپانے کے لیے بچی کی جان لے لی گئی۔ لیڈی ڈاکٹر کے مطابق بچی کی جان ناک اور منہ دبا کر لی گئی۔ گردن پر زور پڑنے سے معصوم بچی کی گردن کی ہڈی بھی ٹوٹ گئی۔

بعدازاں پولیس نے ایک رکشہ ڈرائیور ذاکر عرف انڈولاکو گرفتار کرلیا۔۔ پولیس نے جنسی درندے کو ایک عینی شاہد کی شناخت اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے گرفتار کیا۔

پولیس ذرائع کے مطابق ملزم نشہ کرتا تھا اور اس نے نشہ کی حالت میں رات ساڑھے 11 بجے بچی کو بے ہوش کرکے ایک گلی سے اغوا کیا اور راستے میں بچی کو زیادتی کا نشانہ بنایا۔ ملزم زیادتی کے وقت بھی نشے کی حالت میں تھا۔

پولیس نے مزید بتایا کہ بچی کو جب ہوش آیا تو اس نے رکشے سے چھلانگ لگائی جس سے اس کی گردن کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ ملزم نے بچی کو مردہ حالت میں اٹھایا اور راستے میں پڑے ایک کپڑے میں لپیٹ کر بچی کی لاش کو کچرا کنڈی میں پھینک دیا۔

اس سے قبل پولیس نے ماہم قتل کیس میں 2 عینی شاہدین کو حفاظتی تحویل میں لیا تھا۔ عینی شاہد شعیب ‏نے پولیس کو بیان ریکارڈ کراتے ہوئے بتایا کہ صبح 5بجےرکشے والا آیا اور کچراکنڈی میں کچھ ‏پھینک کرفرارہوگیا۔

عینی شاہد کا کہنا تھا کہ رکشہ کی لائٹ تیزہونے کی وجہ سے ‏ڈرائیور کی شکل نہیں دیکھ سکا، تاہم ڈرائیورنےسرخ رنگ ‏کاکیپ لگایا ہوا تھا،مجھے شک ہونے پر جاکر کپڑا کھولا تو اندرسےبچی کی لاش نکلی۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>