جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا عوام کے لیے کورونا کی وبا سے احتیاط کا پیغام

عدالت عظمیٰ کے سینئر جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ جو بھارتی قسم کے کورونا وائرس کا شکار ہوئے وہ کورونا کے باعث اسپتال میں زیر علاج ہیں انہوں نے اسپتال سے ایک خط میں عوام سے احتیاط اور حکومت سے اقدامات کے لیے کہا ہے.

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے خط میں لکھا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کی دفعہ 9 ایک بنیادی حق کے طور پر زندگی کے حق کی ضمانت دیتی ہے اور صحت اس حق کا لازمی جزو ہے۔ میری اہلیہ اور میں ملک کے ان ابتدائی چند خوش قسمت (2 فی صد سے کم افراد میں سے تھے جن کو چینی حکومت کی مہربانی سے کورونا ویکسین دی گئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ہم دونوں کی عمر 60 سال سے زائد تھیں۔ ہم نے ہر احتیاطی تدبیر اختیار کی، جیسے عوامی مقامات پر ماسک پہننا، پھر بھی ہم بہت زیادہ تیزی سے چلنے والے ڈیلٹا وائرس کا شکار ہوگئے۔ ویکسین کی حفاظت کے باوجود مجھے ہسپتال میں داخل ہونا پڑا۔ مجھے قائد اعظم انٹرنیشنل اسپتال اسلام آباد کے بہت باصلاحیت ڈاکٹروں اور عملے کی طرف سے بہترین علاج فراہم کیا جارہا ہے۔

فائز عیسیٰ نے مزید لکھا کہ ہم ان سب کے انتہائی شکر گزار ہیں۔ ایسا علاج اکثر لوگوں کی پہنچ سے باہر ہے ۔ میری اہلیہ اور مجھ پر الله کا خصوصی کرم ہے جو ہمیں دعاؤں اور پیار کی صورت میں ملا اور اس کے لیے ہم الله تعالی کے حضور سربسجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سب سے پہلی اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ احتیاط سب سے اچھی دوا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ اور عالمی ادارہ صحت کی جانب سے لازم کی گئی احتیاطیں اور سماجی فاصلے کی تدابیر کا خیال نہیں رکھا جا رہا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ قوم کی صحت کے امور امراض تنفس کے ماہرین اور دیگر کوویڈ-19کے ماہرین کے سپرد کیے جائیں جن میں ٹی وی اور ریڈیو پر لایا جائے اور وہ قوم کے لیے یہ امور واضح کریں ، خبر دار کریں اور آگاہی بھی فراہم کریں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ لوگوں تک بات پہنچانے کے لیے اردو اور دیگر زبانوں کو استعمال کیا جائے۔ ایس او پی (SOP) جیسے مخفف کا مترادف ڈھونڈنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔ طبی ہدایات کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ اس کے باوجود اس خلاف ورزی کا ارتکاب وہ لوگ کرتے ہیں جن کو چاہیے کہ دوسروں کے لیے خود اعلی ترین مثال قائم کریں۔

انہوں نے کہا کہ فیصل مسجد میں کندھے سے کندھا ملا کر عید الاضحی کی نماز پڑھنے سے یہ غلط پیغام دیا گیا کہ طبی ہدایات اہم نہیں ہیں۔ وباؤں کے دوران احتیاطی تدابیر کے بارے میں اسلامی تعلیمات بہت واضح ہیں لیکن ان کو بھی یکسر ترک کر دیا گیا ہے۔

میری آزمائش نے اب تک مجھے جو کچھ سکھایا ہے ، میں اسے دوسروں تک پہنچانا اپنی ذمہ داری سمجھتا ہوں۔ یہ عوامی مفاد کا ایسا معاملہ ہے جس سے ہر کوئی متاثر ہورہا ہے۔ چونکہ ہم ایسی صورت حال کا سامنا کر رہے ہیں جو جنگ سے کم نہیں، اس لیے تمام سرکاری ہسپتالوں، بشمول کمبائنڈ ملٹری ہسپتالوں (سی ایم ایچ) اور مسلح افواج کے دیگر ہسپتالوں کو فوری طور پر لوگوں کی سہولت کے لیے کھول دینا چاہیے۔ ایسانہ کیا گیا تو طبقاتی اور سماجی خلیج مزید گہری ہو جائے گی اور عدم مساوات پر مبنی نظام کی وجہ سے لوگ مسائل کا شکار ہوں گے اور جانیں بھی ضائع ہو سکتی ہیں۔

انہوں نے آخر میں دعا کی کہ اللہ تعالی نے ہم پر اپنا خصوصی رحم اور کرم کیا ہے اور اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم مل کر بطور قوم اس وبا کا مقابلہ کریں۔ ایک دفعہ پھر سب کی دعاؤں ، فکر مندی اور محبت کے لیے ہم تہہ دل سے شکر گزار ہیں۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >