نور مقدم قتل کیس،مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے والدین کی درخواست ضمانت مسترد

 

نور مقدم قتل کیس میں اسلام آباد کی مقامی عدالت نے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے والدین کی درخواست ضمانت مسترد کر دی ہے،ظاہرجعفر کے والدین پر نور مقدم قتل کیس میں اعانت جرم کا الزام ہے،ایڈیشنل سیشن جج شیخ محمد سہیل نے وکلا کے دلائل سننے کے بعد ملزم کے والدین کی درخواست ضمانت پر گزشتہ روز فیصلہ محفوظ کیاتھا،جسے آج سنادیا گیا ہے،فیصلے کے تحت عدالت نے ظاہر جعفر کے والد اور والدہ کی ضمانت کی درخواستیں خارج کردیں ہیں،ظاہر جعفر کے والدین پر نور مقدم قتل کیس میں اعانت جرم کا الزام ہے۔

ایڈیشنل سیشن جج اسلام آباد شیخ محمد سہیل نے ملزم کے والدین کی درخواست ضمانت پر سماعت کی، وکیل راجا رضوان عباسی نے ایف آئی آر پڑھی اور کہا کہ 20 جولائی کو رات ساڑھے 11 بجے شوکت مقدم کی مدعیت میں ایف آئی آر درج ہوئی،پہلے دن سے ان کے موکل نے عوامی سطح پر اس قتل کی مذمت کی اور متاثرہ پارٹی کے ساتھ کھڑے ہیں جبکہ والدین اپنے بیٹے کے ساتھ نہیں کھڑے،وکیل نے بتایا کہ تفتیشی افسر کے سامنے ملزم کےبیان کو بنیاد بنا کر والدین کو بھی تفتیش میں شامل کیا گیا جبکہ والدین جانتے تک نہیں تھے کہ گھر میں کوئی ایسا کام ہو رہا ہے،جہاں نور اور ظاہر موجود تھے۔

پراسیکیوٹر نسیم ضیا نے کہا کہ ملزم کی والدین کے ساتھ بات ہورہی تھی لیکن انہوں نے پولیس کو آگاہ نہیں کیا، جب نوکر نے فون کیا تو اس وقت وہاں واقعہ ہو رہا تھا اور انہوں نے پولیس کے بجائے تھراپی ورک والوں کو بھیجا،ملزم سےجو پستول برآمد ہوئی وہ ملزم کے والد نام پر رجسٹرڈ ہے،جبکہ سرکاری وکیل نے بتایا کہ کال، سی ڈی آر، ڈی وی آر، سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے، انہوں نے بد دیانتی کی بنیاد پر اپنے بچے کو بچانے کی کوشش کی۔

25 جولائی کو اسلام آباد پولیس نے نور مقدم کے قتل کے ملزم ظاہر جعفر کے والدین اور گھریلو ملازمین کو شواہد چھپانے اور جرم میں اعانت کے الزامات پر حراست میں لیا تھا، ملزم ظاہر جعفر کے والدین اس وقت جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل میں قید ہیں،20جولائی کو اسلام آباد کے پوش سیکٹر ایف۔7/4 کے رہائشی سابق پاکستانی سفیر شوکت مقدم کی بیٹی 27 سالہ نور کو قتل کر دیا گیا تھا۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>