لاہور:اغوا ہونے والی چار بچیوں کے کیس میں مزید انکشافات،بچی کو کتنے میں فروخت کیا گیا؟

لاہور سے 30 جون کو چار بچیوں کے اغوا کے کیس میں مزید اہم انکشافات سامنے آگئے ہے، تفتیشی کے مطابق ان چاروں میں سے ایک لڑکی کو 1 لاکھ روپے کے عوض فروخت کیا گیا تھا۔

خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق لاہور کے ڈی آئی جی انویسٹی گیشن شارق جمال نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ ایک لڑکی کو ملزم قاسم نے ایک لاکھ روپے کے عوض فروخت کیا، چاروں لڑکیاں اپنے گھر والوں سے خوش نہیں تھیں، اسی لیے گھر سے نکلیں۔

شارق جمال کے مطابق شہر میں نصب سیف سٹی کیمروں اور دیگر جدید ٹیکنالوجی کی مددسے پہلے رکشہ ڈرائیور کا سراغ لگایا گیا اور بعد میں ایک لڑکی کا موبائل فون آن ہونے پر اس کی لوکیشن کا پتا چلایا گیا جس کے مطابق 3 اگست کو ساہیوال کے ایک قحبہ خانے پر چھاپہ مار کر لاہور سے اغوا کی گئی چار اور دیگر 5 بچیوں کو بازیاب کروایا گیا۔

‘سیاسی ڈاٹ پی کے’ کی خصوصی رپورٹ کے مطابق ہنجروال کی رہائشی 4 بچیاں گھر سے میٹرو ٹرین کی سیر کرنے نکلیں اور غائب ہوگئیں، لڑکیوں کو رکشہ ڈرائیور نے پنڈی سٹاپ گرین ٹاؤن اتارا، جہاں سے وہ جوہر ٹاؤن گئیں لڑکیوں کے پاس موجود موبائل فون کی آخری لوکیشن لاہور کے علاقے چونگی امر سدھو کی آئی جس کے بعد موبائل فون بند ہوگیا۔

پولیس نے واقعے کا علم ہوتے اور اعلی حکام کے نوٹس لینے کے بعد فوری طور پر کارروائی شروع کی اور ایک رکشہ ڈرائیور کو حراست میں لیا جو رات 12 بجے تک بچیوں کےہمراہ تھا، پولیس نے رکشہ ڈرائیور کے علاوہ 2 خواتین سمیت 6 افراد کو گرفتار کیا ہے۔

پولیس تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ چاروں بچیاں اپنے گھرو الوں سے ناخوش تھیں اور اپنی مرضی سے گھر چھوڑ کر باہر نکلیں، کنزہ اور انعم اپنے سوتیلے باپ عرفان کے پاس رہتی تھیں، مقدمے کا مدعی عرفان اپنی دونوں بیویوں کو طلاق دے چکا ہے ، دونوں بچیاں اپنے والد کی نشے کی لت سے تنگ تھیں، دونوں نےپڑوس میں رہنے والی عائشہ اور ارم کو اپنے ساتھ ملایا اور گھر سے بھاگ نکلیں۔

گھر سے نکلنے کے بعد لڑکیاں اورنج لائن میں سوار ہوکر گلشن راوی پہنچیں اور فون کرکے اپنے محلے میں رہنے والے عمر کو بھی وہیں بلالیا، عمر واقعے کو بھانپتے ہوئے واپس آگیا اور آکر بچیوں کے والدین کو آگاہ کیا، بچیوں کوا س دوران ایک رکشہ ڈرائیور ملا جو انہیں تین چار گھنٹے تک شہر میں ہی گھماتا رہا۔

بعد میں لڑکیاں ایک اور رکشہ ڈرائیور کے ہتھے چڑھیں جو پہلے انہیں گرین ٹاؤن میں اپنے گھر اور بعد میں ساہیوال لے گیا، دوران سفر رکشہ ڈرائیور، اس کی بیوی دوست اور اس کی بیوی بھی ساتھ تھے، ان چاروں لوگوں نے بچیوں کو جسم فروشی کے اڈے پر بیچنے کا منصوبہ بنا رکھا تھا۔

تاہم اس منصوبے کو انجام تک پہنچانے سے پہلے ہی بچیوں میں سے ایک کے پاس موجودموبائل فون آن ہوا جس کی لوکیشن پولیس نے حاصل کی اور فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے ساہیوال سے بچیوں کا بازیاب کرواکے ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے۔

 


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>