غیر قانونی راستے ایران جانیوالے نوجوان بھوک سے چل بسے،انسانی اسمگلر صحرا میں چھوڑ کر غائب

گوجرانوالہ کی تحصیل وزیر آباد سے تعلق رکھنے والے ایک ہی خاندان کے 7 افراد کو انسانی اسمگلر نے غیر قانونی راستے بیرون ملک لیجانے کا لالچ دیا اور 10،10 ہزار روپے کے عوض انہیں چاغی کے راستے تفتان کے صحرائی علاقے تک لے گیا۔

ضلع چاغی کی تحصیل تفتان کے اسسٹنٹ کمشنر کے مطابق 3 روز تک مسلسل کوشش کے بعد 2 افراد کی لاشوں کو برآمد کیا گیا ہے۔ تفتان کے اے سی محمد حسین کے مطابق یہ لاشیں3 ہفتے تک صحرا میں بے یارومددگار پڑی تھیں جس کے باعث وہ 65 فیصد ڈی کمپوز ہو چکی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق وزیر آباد کے نواحی موضع چک گلّاں کے ایران جانے والے نوجوانوں کو ایجنٹ نے اضافی رقم نہ ملنے پر تفتان اور نوکنڈی کے درمیان صحرا میں بے یارو مدد گار چھوڑ دیا، بھوک اور پیاس سے تینوں دم توڑ گئے۔ بے ہوشی کے بعد بھی ایک نوجوان بچ گیا جس نے لواحقین کو مطلع کیا۔

چاغی کے علاقہ تفتان اور نوکنڈی کے درمیان صحرائی علاقہ میں سعید بلوچ نامی ایجنٹ نے 35 ہزار روپے فی کس دینے کا مطالبہ کیا جو پورا نہ ہوا جس پر ایجنٹ انھیں صحرا میں انتظار کرنے کا کہہ کر خود غائب ہو گیا۔

مرنے والوں کے پاس کھانے پینے کا جو تھوڑا بہت سامان تھا وہ بھی انسانی سمگلر اپنے ساتھ لے گیا۔ صحرا میں بھوک اور پیاس سے ایک کے بعد دوسرا آدمی مرتا رہا تو بچ جانے والے اسے دفناتے رہے، آخری آدمی کو دفنانے والا بھی کوئی نہ تھا۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >