افغانستان کو تنہا چھوڑا گیا تو وہاں خانہ جنگی لگ سکتی ہے،وزیر خارجہ

افغانستان کو تنہا چھوڑا گیا تو وہاں خانہ جنگی لگ سکتی ہے،وزیر خارجہ

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے برطانوی ہم منصب کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان سے متعلق تمام پیش گوئیاں اور دعوے غلط ثابت ہو گئے۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ فلاں ہمارا فیورٹ ہے اتنا ضرور کہیں گے کہ وہاں عوامی حمایت کے ساتھ جو بھی حکومت بنے گی اس کا ساتھ دیں گے۔

شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ میرا 16 اور 27 اگست کو برطانوی حکومت کے ساتھ رابطہ ہوا تو تب بھی یہی کہا تھا کہ اگر افغانستان کو تنہا چھوڑا گیا تو وہاں خانہ جنگی لگ سکتی ہے، بحران آ جائے گا جس سے خطہ متاثر ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ بحران سے پیدا ہونے والی خانہ جنگی خطرناک حالات لا سکتی ہے۔

وزیر خارجہ نے برطانوی ہم منصب کو پاکستان کا دورہ کرنے پر خوش آمدید کہا ان کا کہنا تھا کہ برطانوی وزیر خارجہ سے افغانستان کی تازہ صورتحال سمیت پاکستان اور برطانیہ کے تعلقات مزید مستحکم کرنے پر بات ہوئی ہے۔ ہم نے بات کی ہے کہ اب افغان معاملے کو آگے کس طرح سے بڑھایا جا سکتا ہے۔

شاہ محمود قریشی نے یہ بھی کہا کہ ہم دونوں ممالک یہی چاہتے ہیں کہ افغانستان میں استحکام آئے، انہوں نے مہمان وزیر خارجہ کو فیٹف کی شرائط سے متعلق پاکستانی اقدامات سے بھی آگاہ کیا اور برطانوی وزیر خارجہ سے کہا کہ وہ فیٹف اجلاس میں پاکستان کی حمایت کریں اور اس معاملے پر بات کریں کہ پاکستان نے اس میدان میں کتنا کام کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت افغانستان میں مربوط نظام کی حامی ہے۔ ہم کسی سے متعلق نہیں کہیں گے کہ فلاں ہمارا فیورٹ ہے۔ بس یہی کہنا بہت ہے کہ عوامی حمایت سے بننے والی ہر حکومت سے تعاون کیلئے تیار ہیں۔ ہمارے افغانستان سے تعلقات کس نوعیت کے ہیں دنیا کو اسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>