آغا خان یونیورسٹی میں بریف کیس سائز کے پورٹیبل،سستے وینٹی لیٹرز تیار،پیٹنٹ غیر ملکی

آغا خان یونیورسٹی ایمبولینسوں میں پورٹیبل اور سستے وینٹی لیٹرز تیار کرلئے گئے ہیں، جو  بیٹری سے چلیں گے اور بریف کیس سائز کے ہونگے، ان وینٹی لیٹرز کی قیمت بھی انتہائی مناسب ہے،بریف کیس سائز اور کم قیمت وینٹیلیٹر کو امریکا کے پیٹنٹ اور ٹریڈ مارک آفس سے پیٹنٹ ملا ہے،31 اگست کو آغا خان یونیورسٹی کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے بیان کے مطابق  وینٹی لیٹر پاکستانی ڈاکٹرز ، بائیو میڈیکل انجینئرز اور سافٹ ویئر ڈویلپرز نے یونیورسٹی اسپتال کے پہلے ہیکاتھون میں تیار کیا تھا۔

آغا خان یونیورسٹی کے ٹیکنالوجی انوویشن سپورٹ سینٹر اور ڈیجیٹل ہیلتھ ریسورس سینٹر کے ڈائریکٹر سلیم سیان کا کہنا ہے کہ جب آپ کو سانس لینے میں مشکل پیش آرہی ہو تو ایک ایک لمحہ قیمتی ہوتا ہے، سانس لینے کی شدید پریشانی سے دوچار زیادہ تر افراد اسپتال جاتے ہوئے اپنی صحت بگڑتے دیکھتے ہیں اور عام طور پر آکسیجن سلنڈر مہیا کرنے سے کہیں زیادہ انہیں سانس لینے میں مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔

ویب سائٹ  کے مطابق ریسسیٹیشن آٹومیشن ڈیوائس یا آر اے ڈی کا مقصد خود ساختہ  چلنے والے ایمبو بیگ کے درمیان ایک پل کی حیثیت سے کام کرنا ہے،وینٹی لیٹرز کے استعمال کا مقصد اسپتال پہنچنے کے دوران مریضوں کی زندگیاں بچانے کیلئے سانس لینے کی سہولت فراہم کرنا ہے کیونکہ بروقت وینٹیلیشن نہ ہونے کی وجہ سے بہت سی قیمتی جانیں ضائع ہو جاتی ہیں۔

آغا خان یونیورسٹی سینٹر آف ایکسی لینسی فار ٹراما اینڈ ایمرجنسی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر جنید رزاق کا کہنا ہے کہ بروقت اور مؤثر وینٹی لیشن کی کمی کے باعث بہت سی قیمتی جانیں ضائع ہورہی ہیں، اس ایجاد کا مقصد اسپتال پہنچنے اور علاج شروع ہونے کے درمیان کے وقت میں پل کا کردار ادا کرنا ہے، جو تشویشناک حالت میں مریضوں کیلئے انتہائی رسک کا وقت ہوتا ہے۔

اے کے یو میں اینستھیسیولوجی ڈیپارٹمنٹ میں کام کرنے والے اسد لطیف نے کہا کہ ایمبولینسوں میں کم لاگت والے موبائل وینٹیلیٹرز کے استعمال کے ساتھ ساتھ اسپتال سے ریموٹ مانیٹرنگ کے ساتھ موبائل ٹیکنالوجی کے ذریعے مریضوں کی جان بچانے میں مدد ملے گی۔

ڈیوائس سے ایک موبائل ایپ بھی منسلک ہے جو اسپتال میں موجود ڈاکٹروں کو ایمبولینس میں مریض کو لگے وینٹی لیٹر کا پورا کنٹرول فراہم کرتا ہے، تاکہ یہ یقینی بنایا جاسکے کہ وہ مستحکم حالت میں اسپتال پہنچ جائیں۔ اسپتال کا عملہ ایپ کے ذریعہ مریض کی صحت سے متعلق حقیقی وقت کے اعداد و شمار تک رسائی حاصل کرسکتا ہے۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>