اسلام آباد ہائی کورٹ پر حملے میں سینئر وکیل ملوث تھے،رپورٹ سامنے آ گئی

‏اسلام آباد ہائی کورٹ حملہ پر بنے اسلام آباد بار کونسل کے ایک رکنی کمیشن رانا عابد نذیر (ایڈووکیٹ سپریم کورٹ) نے ہمت جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے وکیلوں کے ایک مخصوص حصے کے طرز سیاست اس کے پیشہ وکالت پر منفی اثرات اور بار کا کندھا استعمال کرنے کو بری طرح ایکسپوز کیا ہے۔

کمیشن نے حملہ کے حقائق بیان کرنے سے قبل اسباب کے بیان میں حقیقی کل وقتی پیشہ ور وکلا کی بار انتخابات میں حوصلہ افزائی کو روکنے کی تجویز دی۔ انہوں نے لکھا کہ ہائی کورٹ میں آج تک تین ناخوشگوار واقعات رونما ہوئے تینوں میں ایکٹو وکلا میں سے دو بار صدر بنے تیسرے کے لیےتقریبات ہوئیں۔

رانا عابد نذیر کمیشن نے 28 صفحات کی رپورٹ میں مزید کہا وکلا کے چیمبرز گرنے پر سابق بار عہدیدار اور دیگر وکلا اشتعال نہ دلاتے تو واقعہ پیش نہ آتا نوجوان وکلا کو ماں کی قسم دے کر ایف ایٹ کچہری سے سوزوکی پک اپ میں بھر کر اسلام آباد ہائی کورٹ لایا گیا تھا۔

‏محلاتی سازش کا حوالہ دے کر لکھا کہ وکیلوں میں جج صاحب سے متعلق شکوک شبہات پائے جاتے ہیں جنہیں مجاز ادارے وضاحت کرکے بہتر مستقبل کے لئے دور کر سکتے ہیں۔ مزید لکھا سینئر وکیل راجا شفقت عباسی نے پہلے وکلا کو ورغلایا اور جب وہ چیمبر میں داخل ہوئے تو پھر انہیں منع کرنے کا ڈھونگ رچایا۔

‏ہائی کورٹ حملہ میں ملوث تمام وکلا کے نام اور ان کا رول لکھ دیا جس سے میرے خیال میں 90 فیصد بار ممبران اتفاق کرتے ہیں یا کم سے کم انکار نہیں کر سکتےجہاں تک جوڈیشری کی بات ہے وہ بھی میرے خیال میں کمیشن رپورٹ سے مطمئن ہے اب بار کونسل پر ہے کہ ہمیشہ کے لیے اس واقعہ کو مثال بنادے۔

‏رپورٹ کے مطابق ہائی کورٹ حملہ آٹھ فروری سے چند روز قبل ، ڈسٹرکٹ بار ہائی کورٹ بار ، بار کونسل کے نمائندہ وفد نے چیف جسٹس سے ملاقات کرکے یقین دہانی کرائی کہ کچہری میں مزید چیمبر نہیں بنیں گے اس کے باوجود پانچ چھ اور سات فروری کو سیشن پارکنگ میں غیر قانونی چیمبرز تعمیر کرائے گئے۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>