سندھ حکومت کے فیصلوں سے لگتا ہے کہ وہ بلدیاتی انتخابات نہیں چاہتے،الیکشن کمیشن

سندھ حکومت کے فیصلوں سے لگتا ہے کہ وہ بلدیاتی انتخابات نہیں چاہتے،الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد سے متعلق کیس پر فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔

خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق چیف الیکشن کمیشن سکندر سلطان راجہ کیس کی سماعت کرنے والے تین رکنی بینچ کی سربراہ تھے، دوران سماعت اسپیشل سیکرٹری الیکشن کمیشن ظفر اقبال ملک سمیت ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب اور وزیربلدیات ناصر حسین شاہ بھی پیش ہوئے۔

دوران سماعت اسپیشل سیکرٹری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 کے تحت 120 دنوں کے اندر صوبے میں بلدیاتی انتخابات منعقد کروائے تاہم سندھ حکومت نے مردم شماری کے حتمی نتائج آنے تک انتخابات کروانے سے معذرت کرلی ہے۔

انہوں نے اپنے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت کے فیصلوں سے لگتا ہے کہ وہ آئندہ 18 ماہ میں بھی بلدیاتی انتخابات کا انعقاد نہیں چاہتے، الیکشن کمیشن نے وزیراعظم سمیت تمام متعلقہ وزارتوں کو مردم شماری کے نتائج کیلئے خط لکھا ہے، بینچ سے درخواست ہے کہ سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کا حکم جاری کرے۔

اس موقع پر ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ بلدیاتی انتخاب کے حوالے سے سندھ حکومت کو کوئی مسئلہ نہیں ہے، انتخابات کے انعقاد میں تاخیر کی وجہ سے قانونی پیچیدگیا ں ہیں، مردم شماری کے نتائج پر سندھ کو تحفظات ہیں پھر بھی مشترکہ مفادات کونسل نے نتائج کونسل نے نتائج جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

الیکشن کمیشن کے بینچ نے دونوں فریقین کے دلائل سننےکے بعد کیس کا فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے سماعت اگلی تاریخ تک کیلئے ملتوی کردی ہے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >