افغانستان پر طالبان کا کنٹرول ، نیٹو سپلائی کرنے والے ٹرانسپورٹرز شدید پریشان

افغانستان پر اب طالبان کا کنٹرول ہے، نظام چلانے کیلئے عبوری حکومت بھی سامنے آگئی ہے، لیکن طالبان کے اس کنٹرول نے نیٹو سپلائی سے منسلک آئل ٹینکرز مالکان اور ٹرانسپورٹرز کی مشکلات بڑھادی ہیں،کنٹریکٹر کے ساتھ بطور منشی کام کرنے والے جلیل نے بتایا کہ تمام ٹرانسپورٹرز کی حالکت خراب ہے، کنٹریکٹرز کے پاس وافر مقدار میں رقم ہیں انہیں کوئی پریشانی نہیں۔

جلیل نے مزید بتایا کہ چھوٹے ٹرانسپورٹرز نے ترقی کی پیسہ بھی کمایا لیکن اب ان حالات میں وہ بھی پریشان ہیں کیونکہ نہیں جانتے انہیں مزید کیا کرنا ہے، آئل ٹینکر کی قیمت بھی آدھی کردی اس کے باجود بھی خریدار نہیں مل رہے، ایک دو گاڑی والے یا قسطیں ادا کرنے والے افراد بھی مزید پریشان ہیں۔

نیٹو سپلائی سے منسلک ٹرانسپورٹرز نے بتایا کہ نائن الیون کے بعد نیٹو فورسز افغانستان آئی تو پاکستان سے انہیں تیل، گاڑیوں اور دیگر سامان کی کراچی بندرگاہ سے زمینی راستے سے سپلائی شروع ہوئی، ڈرائیورز، کنڈیکٹرز، منشی سمیت مختلف افراد بڑے پیمانے پر روزگار میں لگ گئے، نیٹو فورسز کو 20 سال تیل اور دیگر سامان کی سپلائی میں سب سے زیادہ کنٹریکٹرز کی آمدنی ہوئی، جن میں الحاج انٹر پرائز، اسپین زر انٹر پرائز، مینگل انٹر پرائز، بلال انٹر پرائز، ٹرپل ایل اور ڈی ٹو ڈی شامل ہیں۔

جلیل نے نیٹو سپلائی کی بدولت ملنے والی سہولیات کے حوالے سے بھی بتایا، انہوں نے کہا کہ جہاں جان کو خطرے لاحق تھے وہیں نیٹو سپلائی کے باعث ٹرانسپورٹرز کی زندگی میں خوشیوں نے بھی قدم رکھا، انہوں نے کہا کہ ٹرانسپورٹرز نیٹو سپلائی کی وجہ سے کراچی سے خیبر پختونخوا میں اپنے گھر والوں سے ٹیلیفونک رابطہ کرتے تھے اور بتاتے تھے،

کہ وہ عشائیہ فیملی کے ساتھ ہی کریں گے اور پھر گھر والوں کو خوشی کی خبر سنانے کے بعد ان کیلئے مچھلی تلوا کر بس یا گاڑی سے نہیں بلکہ ہوائی جہاز سے گھر جاتے تھے اور گھروالوں کے ساتھ وقت گزارنے کے بعد اگلی صبح روانہ ہوجاتے تھے،جلیل نے بتایاکہ نیٹو سپلائی کے دور میں ڈیروں میں موجود بکری اور دنبے ذبح کرکے تکوں سے لطف اندوز ہوا جاتا تھا،جلیل نے افسردگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب یہ تمام مزے اور سہولیات ختم ہوگئی ہیں۔

ڈرائیورز کے مطابق نیٹو سپلائی میں جان جانے کا خطرہ ساتھ ساتھ رہتا تھا لیکن اس کے باجود ڈرائیور اور کنڈیکٹرز نیٹو سپلائی سے زیادہ پیسہ کمانے کے باعث منسلک رہے، نیٹو سپلائی سے قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا، لوگ زخمی اور معذور بھی ہوئے، اس کام سے منسل ڈرائیور دل نواز نے اپنا تجربہ بتایا کہ وہ کئی بار فائرنگ اور حملوں کا نشانہ بنے لیکن محفوظ رہے،

دل نواز نے بہت سے ایسے ڈرائیورز کی زندگی کے حوالے سے بھی بتایا جو یا تو معذور ہوئے یا زندگی کی بازی ہار گئے،آئل ٹینکرز ڈرائیور رحیم اللہ اور فاروق اعظم نے بھی اپنے تجربات شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ کنٹریکٹرز کی جانب سے جاں بحق کے اہلخانہ کو کوئی رقم نہیں ملتی تھی، صرف میت پر کھانا بھیج کر اور چند ہزار روپے کی امداد کردی جاتی تھی۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>