وزیراعظم عمران خان لائیو ٹرانسمیشن میں اپنی والدہ کے ذکر پر آبدیدہ ہوگئے

کہتے ہیں مائیں سب کی سانجھی ہوتی ہیں۔مزدور ہو یا اقتدار کے بڑے منصب پر فائز سیاستدان۔۔ماں کے لیے سب کے جذبات ایک جیسے ہوتے ہیں۔۔۔مزدور بھی ماں کے ذکر پر جذباتی ہوجاتا ہے۔۔۔اور بڑا لیڈر بھی ماں کے تذکرے پر آبدیدہ ہوجاتا ہے۔۔ایسا ہی ایک منظر شوکت خانم ہسپتال کی سلور جوبلی کے موقع پر فنڈ ریزنگ کی لائیو ٹرانسمیشن میں دیکھنے کو ملا۔۔جب وزیراعظم عمران خان اپنی والدہ کو یاد کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئے۔وہ عمران خان جو کھلاڑی کے روپ میں مضبوط اعصاب کے مالک تھےجو مشکل سے مشکل صورتحال میں بھی ایسا فیصلہ کرتے تھے کہ حریف ٹیم کے چھکے چھوٹ جاتے۔جو ہار کو جیت میں بدلنے کی صلاحیت رکھتے تھے،جنہوں نے ملک کی سیاست بدلنے کے لیے بائیس سال جدوجہد کی،وہ ماں کے ذکر پرجذبات پر قابو نہ رکھ سکے۔

وزیراعظم عمران خان نے شوکت خانم کی بنیاد کیوں رکھی یہ واقعہ بیان کرتے ہوئے وہ آبدیدہ ہوئے،واقعہ کچھ یوں ہے کہ عمران خان نے بتایا کہ انہیں شوکت خانم اسپتال بنانے کا خیال کیوں آیا؟انہوں نے بتایا کہ ان کی ماں کینسر کے مرض میں مبتلا تھیں اور جس اسپتال میں تھیں وہاں ایک غریب شخص موجود تھاجو اپنے بھائی کا علاج کرانے آیا تھا۔وہ سارا دن مزدوری کرنے کے بعد شام کو اپنے بھائی کے ساتھ وقت گزارتا تھا۔اس شخص کی غریب ہونے کے باوجود ہمت اور خودداری دیکھ کر مجھے شوکت خانم اسپتال بنانے کا خیال آیا،میں نے سوچا کہ جب میرے پاس اتنے وسائل موجود ہیں پھر بھی ہم اپنی والدہ کی وجہ سے کتنے پریشان ہیں، پھر اس مزدور طبقے کا کیا حال ہوگا؟یہ سوچنے کے بعد میں نے کینسر اسپتال کا سنگ بنیاد رکھا

اس لائیو ٹرانسمیشن میں موجود میزبانی کے فرائض انجام دیتے ہوئے فخر عالم نے اس لمحے کو پوری ٹرانسمیشن کا سب سے طاقتور لمحہ قرار دیا ۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >