مشہور مصنفہ تسلیمہ نسرین اسلاموفوبیا کا شکار، معین علی سے متعلق بیان پر شدیدتنقید کی زد میں

مشہور مصنفہ تسلیمہ نسرین اسلاموفوبیا کا شکار، معین علی سے متعلق بیان پر شدیدتنقید کی زد میں
بنگلہ دیشی نژاد سویڈش مصنفہ تسلیمہ نسرین نے معین علی سے متعلق متنازعہ بیان کو سوشل میڈیا پر اسلاموفوبیا کی ایک مثال قرار دیا جارہا ہے۔
خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اتوار کے روز برطانوی کرکٹر معین علی اس وقت خبروں کی زینت بن گئے جب ان سے منسوب ایک افواہ گردش کرنے لگی کہ انہوں نے آئی پی ایل میں اپنی فرنچائز چنائی سر کنگز سے درخواست کی ہے کہ ان کی یونیفارم شرٹ پر شراب کے برانڈ کے لوگو کو ہٹادیا جائے۔
افواہوں کے مطابق جیسا کہ معین علی ایک عملی مسلمان ہیں، انہوں نے فرنچائز انتظامیہ سے درخواست کی ہے کہ ان کی شرٹ سے شراب کے برانڈ لوگو کو ہٹادیا جائے اور ان کی اس درخواست پر انتظامیہ نے حامی بھی بھرلی ہے۔
تاہم چنائی سرش کنگز کے چیف ایگزیکٹو وش واناتھ کا کہنا تھا کہ معین علی نے شرٹ سے لوگو ہٹانے کیلئے کوئی درخواست نہیں کی ہے۔
ان افواہوں کے بعد بنگلہ دیشی نژاد سویڈش مصنفہ تسلیمہ نسرین ایک متنازعہ بیان دیا اور ٹویٹر پر لکھا کہ” اگر معین علی کرکٹر نہ بنتے تو وہ یقینا شام جاکر داعش میں شمولیت اختیار کرچکے ہوتے”۔

ان کی یہ ٹویٹ فوری طور پر وائرل ہوگئی اور صارفین نے انہیں آڑے ہاتھوں لینا شروع کردیا، تسلیمہ نسرین کے بیان پرتنقید کرنے والوں میں مسلمان اور غیر مسلم شامل تھے جنہوں نے تسلیمہ نسرین کے بیان کو اسلاموفوبیا قرار دیا ہے۔

تنقید کرنے والوں میں عام لوگوں سمیت مشہور کرکٹرز بھی شامل تھے ، انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں نے بھی اپنے ساتھی کے خلاف اس گھٹیا بیان کی مذمت کی، جوفرا آرچر نے اپنی ٹویٹ میں تسلیمہ نسرین کو مخاطب کرکے لکھا آپ ٹھیک ہیں ، مجھے نہیں لگتا ایسا ہے۔

ثاقب محمود نے لکھا کہ یہ ناقابل یقین بیان ہے۔
بین ڈکٹ نے ٹویٹ میں لکھا کہ اس ویب سائٹ کا مسئلہ ہی یہ ہے کہ یہاں کوئی بھی کچھ بھی کہہ دیتا ہے، چیزیں تبدیل ہونی چاہیے اس اکاؤنٹ کو رپورٹ کیا جانا چاہیے۔

انورادھا نامی ایک صارف نے کہا کہ ایک عملی مسلمان دہشت گرد کیسے ہوسکتا ہے، جناب کسی انسان کو صرف اس لیے دہشت گرد قرار دینا کہ وہ اپنے ایمان کا اظہار کرے، انہوں نے کسی اور کو اپنے راستے پرچلنے کیلئے مجبور نہیں کیا۔


شریاس شرما نامی ایک صارف نے لکھا کہ بہت ہی افسوس ناک بیان دیا ہے آپ نے، صرف اس لیے کہ معین علی ایک عمل مسلمان ہیں آپ نے انہیں دہشت گرد قرار دیدیا ہے، یہ کوئی مذاق نہیں ہے۔

  • تسلیمہ نسرین کے اس ٹویٹ سے مجھے کنگنا رناوت کے زہرآلود ٹویٹس کی یاد آگئی، معین علی ایک بہت سادہ سا ٹیلنٹڈ کرکٹر ہے جو مولوی تو ہرگز نہیں انگلینڈ میں جب اس کی کاونٹی نے اس کی کپتانی میں فائنل میچ جیتا تھا تب بھی وہ اینڈ پر جب شیمپین کا روایتی چھڑکاو کیا جاتا ہے علیحدہ ہوگیا تھا اور ٹیم اس کی علیحدگی اور واپسی کا احترام سے انتظار کرتی ہے، حیرت ہے برٹش تو اتنے کھلے دل کے ہیں مگر ہمارے مسلمان اس قدر تنگ نظر؟


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >