"مجھے چھوڑو پہلے اپنا بتاؤ کہ پی ایم اے سے کب اور کیوں نکالا گیا؟” فیصل واوڈا اور مطیع اللہ جان پھر آمنے سامنے

فیصل واوڈا کیخلاف دوہری شہریت کا کیس کافی وقت سے چل رہا ہے۔ درخواست گزار کے مطابق 2018 کے عام انتخابات میں حصہ لینے کے لیے فیصل واوڈا نے 11 جون 2018 کو الیکشن کمیشن میں کاغذات نامزدگی داخل کرائے تھے تاہم اس وقت فیصل واوڈا امریکی شہریت رکھتے تھے۔

کاغذات جمع کراتے وقت الیکشن کمیشن میں دوہری شہریت نہ رکھنے کا حلف نامہ جمع کرایا گیا۔ کاغذات کی اسکروٹنی کے وقت بھی فیصل واوڈا امریکی شہریت کے حامل تھے۔

ریٹرننگ آفسر نے 18 جون 2018 کو فیصل واوڈا کے کاغذات نامزدگی منظور کیے اور 22 جون 2018 کو فیصل واوڈا کی جانب سے امریکی شہریت ترک کرنے کے لیے کراچی میں امریکی قونصلیٹ میں درخواست دی گئی جسے 25 جون 2018 کو منظور کیا گیا اور فیصل واوڈا کو امریکی شہریت چھوڑنے کا سرٹیفکیٹ جاری ہوا تھا۔

حالیہ دنوں میں سینٹ الیکشن سے پہلے یہ کیس طول پکڑ گیا تو فیصل واڈا کو نا اہلی سے بچانے کے لئے حکومت نے فیصل واڈا کو سینیٹر بنانے کا فیصلہ کیا ۔ فیصل واڈا نے سینٹ الیکشن سے ایک دن پہلے قومی اسمبلی کی نشت سے استعفٰی دے کر اگلے ہی روز سینیٹر منتخب ہو گئے جس کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ نے دوہری شہریت کی درخواست نمٹاتے ہوئے یہ معاملہ الیکشن کمیشن کو بھجوا دیا۔

آج جب فیصل واڈا الیکشن کمیشن آئے تو ہمیشہ کی طرح اُن کا سامنا مطیع اللہ جان سے ہوا ۔ مطیع اللہ کے سوال پر فیصل واڈا نے جواب دیا کہ پہلے آپ یہ بتائیں کہ آپ کو پی ایم اے سے کیوں نکالا گیا تھا پھر میں بھی آپ کو آپ کے سوال کا جواب دے دوں گا۔

ماضی میں بھی ان دونوں میں میں تلخ کلامی ہو چکی ہے جب مطیع اللہ کے سوال پر فیصل واڈا برہم ہو گئے اور کہا کہ آپ کو جتنا مرچ مسالہ لگانا ہے آپ لگائیں اگر کم پڑ جائے تو مجھ سے لے لینا ۔

  • بیچارہ مطی اللہ لوطی جس کو بد فعلی کروانے کی عادت تھی وہاں بھی اپنی بیج میٹس سے بد فعلی کرانےُکی عادت سے مجبور تھا اس نے بہت سے جنٹلمین کیڈٹس سے بد فعلی کروا کروا کے اپنا ممیسیا ہونے کی عادت کی وجہ دے پورے پی ایم اے میں شہرت حاصل کرلیُ تھی پھر ایکُ دن کمپنیُ کمانڈر نے اس کو رنگے ہاتھوں بدفعلی کرواتے ہوئے پکڑ لیا اور اس کو پیُ ایم اے کاکول سے نکال گیا گیا ویسے تو کیپٹن صفدر حرام زادہ بھی بد فعلی کرتے اور کراتے ہوئے پکڑا گیا تھا مگر اس حرام زادے کو مقامی ہونے کی وجہ سے وارننگ دے کر چھوڑ دیا گیا تھا اسکا کمپنی کمانڈر تھوڑا کمزور بندہ تھا اس کو مقامی لوگوں کی ناراضگی کا ڈر تھا وہ مطی ممیسیا شاید ٹیپو۔ کمپنی میں تھا اور کیپٹنُ صفدر۔ شاید اقبال کمپنی میں


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >