جسٹس فائز عیسیٰ کیس، سماعت کے دوران جج صاحبان آپس میں جھگڑ پڑے

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی صدارتی ریفرنس کے معاملے پر نظرثانی کی اپیل کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے تین جج صاحبان آپس میں الجھ پڑے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کے بارے میں عدالتی فیصلے کے خلاف نظرثانی کی اپیل پر سماعت جاری تھی۔

سپریم کورٹ میں مسلسل تیسرے روز جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نظرثانی کیس کی سماعت ہوئی، جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں دس رکنی بینچ نے سماعت کی۔

سماعت کے دوران ججز میں اختلاف ہوئے اور بینچ میں شامل جسٹس سجاد علی شاہ نے بینچ سے اٹھ کر جانے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ بار بار وکیل کو ٹوکتے رہے تو میں اٹھ کر چلا جاؤں گا، جس پر جسٹس مقبول باقر نے بھی کہا کہ اٹھ کر تو میں بھی جا سکتا ہوں۔
اس موقع پر حکومتی وکیل نے بینچ سے گزارش کی کہ مناسب ہوگا کہ عدالت دس منٹ کا وقفہ کرلے۔ وقفے کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ کوئی بات جسٹس مقبول باقر کو بری لگی تو معافی چاہتا ہوں۔

اس موقع پر بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطابندیال نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو دلائل مکمل کرنےکیلئےکتنا وقت درکار ہوگا؟ وقت محدود کا مطلب یہ نہیں کسی کو مؤقف سے روکیں، ججز کچھ وضاحت چاہتے ہیں تو سوال بھی کریں گے، سب کو کوشش کرنی چاہیےکہ ہم جذباتی نہ ہوں،سپریم کورٹ کیلئےیہ حساس ترین کیس ہے۔

عدالت نے سرکاری وکیل کو 23 اپریل تک اپنے دلائل مکمل کرنے کا حکم دیا ہے۔

واضح رہے کہ جسٹس مقبول باقر درخواست گزار جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی طرف سے صدارتی ریفرنس کی کارروائی براہ راست دکھانے کی درخواست پر ان کا مؤقف تسلیم کرنے والے چار ججز میں شامل تھے جن میں دیگر جج صاحبان جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منظور ملک اور جسٹس مظہر عالم خان شامل ہیں۔

  • یہ نورا کشتی ھے پہلے سے معاملہ طے تھا۔ کیا منی ٹریل دےدی جج صاحب نے؟ کیا جج صاحب کو باعزت بری کر دیا گیا۔ نہیں بس انکے خلاف کیس بند کر دیا گیا نہ صرف اب کیلئے بلکہ آئندہ کیلئے بھی کسی بھی فورم کیلئے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >