پیپلزپارٹی کی سینیٹ میں باپ سے مدد لینے سے متعلق وضاحت تک اتحاد ممکن نہیں، ن لیگ کا مولانا کو دوٹوک جواب

مسلم لیگ ن نے مولانا فضل الرحمان کے سامنے اپنا دوٹوک مؤقف رکھ دیا ہے کہ جب تک پیپلزپارٹی اور اے این پی سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کے انتخاب میں باپ (بی اے پی) سے مدد لینے کے معاملے پر وضاحت نہیں دیتی تب تک ان سے اتحاد ممکن نہیں ہے۔

تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ ن نے مولانا فضل الرحمان کو پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم پر اکٹھے ہونے سے متعلق کہا ہے کہ جب تک پیپلزپارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی سینیٹ میں حکمران جماعت کے اتحادی بلوچ عوامی پارٹی کے ساتھ سینیٹ میں اپنے اتحاد سے متعلق وضاحت نہیں دیتیں تب تک اس پلیٹ فارم پر ان جماعتوں کے ساتھ اتحاد ممکن نہیں۔

یاد رہے کہ پی ڈی ایم کی جماعتوں کے اجلاس کے دوران بھی اس متعلق کافی کشیدہ صورتحال دیکھنے میں آئی جب دیگر جماعتوں کو پتہ چلا کہ پیپلزپارٹی نے بی اے پی کی مدد سے سینیٹ میں اپنا اپوزیشن لیڈر منتخب کرایا ہے۔

پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کے مابین جھگڑا اس وقت واضح ہوا جب اپوزیشن کے 27 سینیٹر کے علاوہ ایک علیحدہ بلاک سینیٹ میں سامنے آیا جس پر پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی جانب سے پیپلزپارٹی اور اے این پی کو شوکاز نوٹسز جاری کیے گئے۔

اس شوکاز نوٹس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پیپلزپارٹی اور اے این پی نے حکومت مخالف اس اتحاد کے تمام عہدوں سے استعفے جمع کر ادیئے اور پی ڈی ایم سے علیحدگی اختیار کر لی۔ یہ اتحاد حکومت کو گرانے اور اس میں اسٹیبلشمنٹ کے کردار کو روکنے کے لیے گزشتہ سال ستمبر میں بنایا گیا تھا۔

بدھ کو میڈیا رپورٹس سے پتہ چلا ہے کہ پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زداری اور سینیٹر قیوم سومرو پچھلے 3 روز میں مولانا فضل الرحمان سے 3 بار رابطہ کر چکے ہیں۔ انہوں نے پی ڈی ایم کے مستقبل اور پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے مابین اختلافات پر تبادلہ خیال کیا۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >