خواتین کا مختصر لباس جنسی ہیجان کا سبب قرار، مسلم لیگ ن کے سینٹر کی وزیراعظم عمران خان کے بیان کی حمایت

مسلم لیگ ن کےسینیٹر پروفیسر ساجد میر نے وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے عورتوں کے مختصر لباس کوجنسی ہیجان کا سبب قرار دینے کے بیان کی حمایت کر دی۔

تفصیلات کے مطابق مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے سربراہ پروفیسر ساجد نے وزیراعظم عمران خان کے عورتوں کے مختصر لباس سے متعلق بیان کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعظم نے درست نشاندہی کی ہے، معاشرے میں جنسی بے راہ روی کے اسباب میں لباس بھی ایک سبب ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ قرآن وسنت میں عورتوں کے پہناوے کی اخلاقیات بیان کی یہی وجوہات ہیں ۔

اس حوالے سے جاری بیان میں سینیٹر پروفیسر ساجد میر کا کہنا تھا کہ بری اور ناکام گورننس اور دیگر ناکامیاں اپنی جگہ پرلیکن وہ وزیراعظم کےاس بیان کی مکمل تائید کرتےہیں۔

پروفیسر ساجد نےمعاشرے میں جنسی بےراہ روی کے واقعات کےاسباب میں ہیجان خیز لباس کودیگراسباب کی طرح ایک سبب قراردیاہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ زیادتی کےواقعات کےدیگرعوامل بھی ہوسکتےہیں تاہم اس پہلو کو نظر انداز نہیں کیاجاسکتا۔

لباس اور اخلاقیات کےحوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شریعت نے پہناوے کےاخلاقیات متعین کی ہیں جس کی اپنی حکمتیں ہیں، پہناوے کی ان اخلاقیات پر عمل کرکےعورت باوقاراندازمیں اپنی عصمت اور ناموس کی حفاظت کرسکتی ہے۔

انہوں نے وزیراعظم کے پردے کے تصور پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پردے کا تصور یہ ہے کہ معاشرے میں فتنے سے گریز کیا جائے۔

پروفیسر ساجد میر نے وزیراعظم سے جنسی ہیجان خیزی کےاسباب کے تدارک کے لئے اقدامات کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے ٹی وی ڈراموں پر پابندی لگانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ٹی وی پرعورتوں کےغیراخلاقی پہناوےکو روکاجائےتاکہ نوجوان نسل میں منفی جذبات کو پیدا ہونے سے روکاجاسکے۔

واضح رہے کہ امریکی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے ملک میں بڑھتے ہوئے جنسی زیادتیوں کے واقعات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کبھی نہیں کہا کہ عورتیں برقعہ پہنیں، عورت کے پردے کا تصور یہ ہے کہ معاشرے میں بے راہ روی سے بچا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے معاشرے میں ڈسکوز اور نائٹ کلب نہیں ہی لہٰذا اگر معاشرے میں بے راہ روی بہت بڑھ جائے گی اور نوجوانوں کے پاس اپنے جذبات کے اظہار کی کوئی جگہ نہ ہو تو اس کے معاشرے کے لیے مضمرات ہوں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ اگر عورت مختصر کپڑے پہنے تو مرد پر اثر پڑے گا ، جہاں تک جنسی تشدد ہے اس کا تعلق معاشرے سے ہے، جس معاشرے میں لوگ ایسی چیزیں نہیں دیکھتے وہاں اس سے کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>