پولیس اہلکاروں پر تشدد، سوشل میڈیا کا حکومت سے ٹی ایل پی کے خلاف فوری ایکشن کا مطالبہ

کالعدم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے کارکنان کی جانب سے سادھوکی میں پولیس اہلکاروں پر حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں تین پولیس اہلکار جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے ہیں، سوشل میڈیا صارفین نے واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے حکومت سے فوری ایکشن لینے کی اپیل کی ہے۔

تفصیلات کے مطابق سادھو کی میں پولیس کے 3 اہلکار شہید ہوگئے ہیں، تحریک لبیک والوں نے کلاشنکوفوں سے پولیس پر فائرنگ کی ہے، پرتشدد واقعات میں 70 پولیس اہل کار زخمی ہوئے جن میں سے 8 کی حالت تشویشناک ہے۔

اس صورتحال کی شدید مذمت کرتے ہوئے سوشل میڈیا صارفین نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ صورتحال مزید بگڑنے سے پیشتر فوری ایکشن لیں۔

سوشل میڈیا صارف اسد کاظمی نے شہید پولیس اہلکاروں کی تصویر اپنے ٹوئٹر پر شیئر کی اور لکھا کہ ہم ان فاسدوں کے خلاف سخت کارروائی چاہتے ہیں جو عالمی دنیا کی نظروں میں واقعی ملک کی توہین کا باعث بن رہے ہیں۔

وقاص نامی صارف نے اپنی ٹویٹ میں کہا ہے کہ میں وقاص محمد ریاست پاکستان سے مطالبہ کرتا ہوں کہ ناموس رسالتﷺْ کی آڑ میں توڑ پھوڑ اور قتل و غارت مچانے والی کالعدم تحریک لبیک جس نے عوام کا جینا محال کر رکھا ہے اور ریاست مخالف ہتھیار بند ہیں انکے خلاف سخت ایکشن لیا جائے۔

حسن وزیر نامی صارف کا کہنا تھا کہ دوسرے فرقے کو کافر کہنے والے اسلام کے ٹھیکیدار بن چکے ہیں۔ یہ کیسے لوگ ہیں جو انسانیت سے محبت نہیں کرتے۔ پاکستان ان فسادات سے محفوظ رہے گا، پاکستان امن و آشتی کے لیے بنا تھا اور انشاء اللہ یہ ہمیشہ قائم رہے گا۔

وزیراعظم عمران خان کے فوکل پرسن برائے ڈیجیٹل میڈیا ڈاکٹر ارسلان خالد کا کہنا تھا کہ کانسٹیبل غلام رسول کو فسادیوں نے قتل کیا جبکہ اسکا قصور صرف عوام کے جان ومال کی حفاظت کرنا تھا۔قوم اپنی فورسز کی قربانیوں کو نہیں بھول ,سکتی۔ عوام کی زندگی جس طرح کالعدم تنظیم نے مشکل بنائی ہوئی، عوام ریاست کی طرف دیکھ رہی ہے کہ کب اس فساد کو روکا جائے گا۔

نعمان خان نامی صارف نے اپنی پوسٹ میں سوال کرت ہوئے کہا کہ یہ کیسی محبت رسول ﷺْ ہے جو ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان کا قتل کرنے دیتی ہے۔ یہ متعصب لوگ جو بڑی ڈھٹائی سے سرکاری املاک کو تباہ کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے ہم وطنوں کو قتل کر رہے ہیں انہیں سخت سے سخت سزا ملنی چاہیے تاکہ وہ ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے کی جرأت نہ کر سکیں۔

حمزہ شکیل نامی صارف نے ٹویٹ کی کہ امن اسلام میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے اور مذہب کا مقصد ایک ایسی دنیا کو حاصل کرنا ہے جس میں حملہ، تنازعہ یا ظالم حکمران نہ ہوں۔

واضح رہے کہ کالعدم ٹی ایل پی کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی طرف مارچ کرتے ہوئے روانہ ہیں، ترجمان کالعدم ٹی ایل پی کا کہنا ہے کہ ہمارا پہلے دن سے ایک ہی مطالبہ تھا کہ فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کیا جائے۔

جی ٹی روڈ پر آمدو رفت معطل ہونے سے کھانے پینے کی اشیا اور سبزیوں کی قلت ہوگئی ہے۔

دوسری جانب جہلم پُل سے پہلے خندق اور خاردار تاریں لگا دی گئی ہیں اور پل پر مٹی کا ڈھیر اور کنٹینرز کھڑے کردیے گئے ہیں۔

راولپنڈی اوراسلام آباد کو ملانے والی بیشتر مرکزی شاہراہیں سیل ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>