عرب ممالک میں عمران خان کو قدر کی نگاہ سے کیوں دیکھا جاتا ہے؟

عرب ممالک خصوصا عمان میں پاکستانی قیادت کو ماضی کی نسبت عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ سینئر صحافی رؤف کلاسرا نے اپنے نئے وی لاگ میں اس بات کا انکشاف کیا ہے۔

سینئر صحافی رؤف کلاسرا نے عمان کے دارالحکومت مسقط سے نیا ویڈیو بلاگ جاری کیا ہے جس میں ان کے ہمراہ ایک پاکستانی امیر حمزہ بھی موجود ہیں جو کہ عمان کی وزارت اوقاف میں مشیر کے طور پر کام کرتے ہیں۔

امیر حمزہ نے مزید اپنے خیالات اور مشاہدات کا ذکر کرتے ہوئے رؤف کلاسرا کو بتایا کہ میں نے محسوس کیا ہے کہ پاکستان کی موجودہ سیاسی اور عسکری لیڈر شپ کو عرب ممالک خصوصا عمان میں ماضی کی نسبت زیادہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے جس کا فائدہ پاکستان کو اٹھانا چاہیے، اس بات کی تائید سینئر صحافی کی جانب سے بھی بلاگ کے آخر میں کی گئی۔

امیر حمزہ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستانی قانون نافذ کرنے والے اداروں کوایسا بندبست کرنا چاہیے کہ پاکستان سے کوئی بھی جرائم پیشہ افراد ڈرگز اور دیگر قسم کی اسمگلنگ میں ملوث نہ ہوسکیں کیونکہ اس سے پاکستان کی بدنامی ہوتی ہے۔ عرب ممالک کے لوگ پاکستان کو ایک آس اور امید کے طور پر دیکھتے ہیں لیکن چھوٹے چھوٹے جرائم کے واقعات میں پاکستانیوں کے ملوث ہونے سے ملک کی بدنامی ہوتی ہے۔

امیر حمزہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کو امداد کے حصول پر مبنی خارجہ پالیسی کو ترک کرکے تمام عرب ممالک سے تعلقات بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔

 


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>