کیا وزیر قانون فروغ نسیم نے استعفیٰ دینے سے انکار کردیا تھا؟

Farogh naseem

ایم کیو ایم رہنما فیصل سبزواری نے انکشاف کیا ہے کہ وفاقی کابینہ سے علیحدگی کے فیصلے میں وزیر قانون فروغ نسیم کو بھی شامل کرنے کی کوشش کی تھی اور انہیں پارٹی فیصلے سے پیشگی آگاہ کیا تھا۔ فروغ نسیم کی جانب سے پارٹی فیصلے کی پابندی نہ کرنے کے سوال پر فیصل سبزواری نے کہا اس بارے میں وزیر قانون ہی بہتر بتاسکتے ہیں۔

ذرائع کا فروغ نسیم نے متحدہ رہنماؤں کے فیصلے کے برعکس استعفیٰ دینے سے انکار کیا تھا جس کے بعد خالد مقبول صدیقی کو اکیلے ہی کابینہ سے مستعفی ہونیکا اعلان کرنا پڑا۔ خالد مقبول کے مطابق فروغ نسیم کو وزارت چونکہ ایم کیوایم کے کہنے پر نہیں دی گئی اس لیے وہ استعفیٰ نہیں دے رہے۔

اس حوالے سے سینئر پارٹی رہنما عامر خان نے بتایا کہ تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے ایم کیو ایم کو صرف ایک وزارت دی گئی ہے, ، ہم نے وزارت قانون نہیں مانگی تھی وہ تو تحریک انصاف نے خود ہی دیدی ہے۔ ہم نے تو نہیں مانگی تھیی۔ ہم نے امین الحق اور فیصل سبزواری کے نام وزارت یا مشیر کے عہدے کیلئے بھجوائے تھے لیکن اس حوالے سے ڈیڑھ سال بعد بھی کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

انہوں نے تسلیم کیا کہ یہ ایک منفرد سی صورتحال ہے کیونکہ ایک جانب تو فروغ نسیم پارٹی عہدیدار ہیں اور متحدہ اس بات کو تسلیم کرتی ہے، لیکن ان کو دی جانے والی وزارت کو پارٹی اپنے حصے کی وزارت نہیں مانتی۔

واضح رہے کہ بیرسٹر فروغ نسیم وزیراعظم عمران خان کے بہت قریب سمجھے جاتے ہیں۔ ایک نجی چینل کے مطابق تحریک انصاف فروغ نسیم کو گورنر سندھ بنانا چاہتی تھی جس پر ایم کیوایم تحریک انصاف سے سخت نالاں تھیں۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>