کمزور اتحاد ، کمزورمعیشت۔۔عمران، مہاتیر کو ملی حکومت میں مماثلت

کمزور اتحاد و معیشت، عمران، مہاتیر کو ملی حکومت میں مماثلت

مہاتیر محمد کے نئے بلاگ میں وزیراعظم عمران خان اور مہاتیر محمد کی حکومت میں مماثلت سامنے آگئی۔

2018ء میں حکومت سنبھالنے کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے ملائیشین ہم منصب مہاتیر محمد کو اپنا رول ماڈل قرار دیا تھا۔ بدعنوانی ہو،کمزور معیشت،کرنسی کی گرتی ہوئی قدر یا انتہائی غربت ،دونوں حکومتوں کو زیادہ تر چیلنجز ورثے میں ملے ۔ دونوں لیڈران سیاسی اور عالمی حالات پر ایک جیسا نکتہ نظر رکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے : وزیراعظم عمران خان نے مہاتیر محمد کا بلاگ ٹویٹ کردیا

یہاں ایک بات قابل ذکر ہے کہ وزارت اعظمیٰ کا منصب چھوڑنے کے بعد مہاتیر محمد نے اس وقت وزیراعظم عمران خان کی دعوت پر پاکستان کا دورہ کیا جب وہ سیاسی طور پر انتہائی کمزور تھے۔ انکی ایک سیٹ تھی اور انکی جماعت کو تانگہ پارٹی کہا جاتا تھا۔ اس وقت مہاتیر محمد بنی گالہ گئے تو وزیراعظم عمران خان انکے خیالات سے مستفید ہوئے۔

بالخصوص وزیراعظم عمران خان مہاتیر محمد کے "نظریہ کرپشن” سے بہت متاثر تھے کہ اگر اوپر کے لوگ ٹھیک ہوجائیں تو نیچے چھوٹی موٹی کرپشن کچھ نہیں کہتی۔ تبدیلی لانی ہے تو اوپر کے لوگوں کو ٹھیک ہونا ہوگا

چند روز قبل مہاتیر محمد نے پاکتن ہڑپنکے عنوان سے بلاگ تحریر کیا۔ حیر ت انگیز طور پر مہاتیر محمد کی جانب سے کھینچے گئے ملکی معاشی،گورننس اور سکیورٹی کیساتھ صنعتی نقشے اور وزیر اعظم عمران خان کو ورثے میں ملی حکومت میں انتہائی مماثلت پائی جاتی ہے

اپنے ایک بلاگ میں انہوں نے لکھا کہ جب بھی کوئی نئی سیاسی جماعت برسراقتدار آ کر حکومت سنبھال لیتی ہے تو یہ معجزہ ہی ہوگاکہ وہ راتوں رات اپنے تمام منصوبوں اور وعدوں کو عملی جامہ پہنا دے ۔

’مسلم دنیا کے تجربہ کار سیاستدان کو بھی ہمارے جیسے مسائل کا سامنا رہا، انکی راہ میں بھی سیاسی مافیا حائل ہوا‘، وزیراعظم عمران خان کا ٹویٹر پر پیغام۔#ARYNews

Posted by ARY News on Sunday, January 19, 2020

انہوں نے تذکرہ کیا کیسے حکومت نے ان چیلنجوں سے نبرد آزما ہونے کے لئے اقدامات کئے ۔ماضی کی بدعنوان حکومت نے گزشتہ کئی دہائیوں سے قوم کو لوٹا ، اس کی دولت ضائع کی،اس کے انتظامی اداروں کو برباد اور قوانین کو مامال کیا ، حد سے زیادہ قرضے لئے ، ملک کو دیوالیہ پن کے دہانے پر پہنچا دیا۔

رشوت ستانی پر مہاتیر محمد کا کہنا تھا کہ عوام کی اخلاقیات کا جنازہ نکال دیا گیا۔ عوام کو کسی بھی کام کیلئے رشوت دینے پر مجبور کردیا جاتا تھا۔ رشوت کو برا فعل نہیں سمجھاجاتا تھا۔

یہ ایک طرح کا معجزہ تھا کہ ایک دوسرے سے مختلف چار جماعتوں کے اتحاد نے اقتدار سنبھال لیا۔مہاتیر محمد نے لکھا کہ ایک کھرب رنگٹ سے زائد قرضوں کے باوجود حکومت ملک کی قرضوں کی ادائیگی کی صلاحیت کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہی ہے ۔ ملائیشیاکے پاس اب بھی بڑی سیونگز موجود ہیں ۔

بینک نیگارا کے ذخائر آر ایم 400 ارب پلس کے فنڈز موجود ہیں جو بلند ترین شرح ہے ،ہم نے ملکی ترقی کیلئے نئے صنعتی اور زرعی منصوبوں کا آغاز کر دیا ہے ،شاید ہمارے بد خواہوں کو نہیں لیکن ہمیں علم ہے کہ ہم کس سمت جا رہے ہیں۔دیکھنے والوں کویہی لگتا ہے کہ کچھ نہیں ہورہا لیکن بات یہ ہے کہ سرسوں ہتھیلی میں نہیں جمتی۔جب ملائشیاءزرعی بنیاد پر قائم معیشت سے صنعتی معیشت پر منتقل ہو رہا تھا تو اس میں بھی لمبا عرصہ لگا

واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان کی حکومت کو آج کل ایک طرف تو معاشی مسائل کا سامنا ہے تو دوسری طرف اتحادیوں کی بلیک میلنگ اور بارگینگ جاری ہے ، تیسری طرف مضبوط اپوزیشن اور چوتھی طرف حکومت مخالف میڈیا کا عمران خان کو سامنا ہے۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ عمران خان حکومت کو آنے کے بعد بہت سی ریفارمز کرنا پڑیں جس کا براہ راست اثر عوام پر پڑا۔۔ حکومت کو سخت معاشی فیصلے لینا پڑے جس کا نتیجہ مہنگائی اور معاشی غیریقینی کی صورت میں نکلا۔۔ ایک طرف وزیراعظم عمران خان کو معاشی مسائل اور اتحادیوں کی بلیک میلنگ کا سامنا ہے تو دوسری طرف اپنی ہی پارٹی کی طرف سے مزاحمت کا سامنا ہے۔


24 گھنٹوں کے دوران 🔥

View More

From Our Blogs in last 24 hours 🔥

View More

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept

>