وزیراعظم عمران خان کے انٹرویو کا وہ کلپ جس پر بھارتی انتہاپسند بھڑک گئے

وزیراعظم عمران خان کے گزشتہ دنوں انٹرویو کا وہ کلپ جس کی وجہ سے بھارتی انتہاپسند رہنما بھڑک اٹھے اور بھارتی وزارت خارجہ جواب دینے سامنے آگئی

وزیراعظم عمران خان کا سی این بی سی کو خصوصی انٹرویووزیر اعظم عمران خان نے کشمیر اور مودی کی ہندوتوا نظریے پر مشتمل حکومت کے بارے میں روشنی ڈالی۔ انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی انتہا پسندی کے نتیجےمیں دو جوہری ممالک میں بگڑتے ہوئے تعلقات اور کسی ممکنہ جنگ کے خدشات بھی ظاہر کیے۔

Posted by Abdul Aleem Khan on Thursday, January 23, 2020

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا بھارت پہ ایک انتہاپسند نظرئیےکا قبضہ ہے جسے یہ ہندتوا کہتے ہیں۔ ان کے پیشوا جرمنی کی نازی پارٹی سے متاثر ہیں۔ یہ نسلی اور مذہبی تعصب پر یقین رکھتے ہیں۔ یہ مسلمانوں کے خلاف نفرت پہ یقین رکھتے ہیں۔ یہ وہی نظریہ ہے جس نے مہاتما گاندھی کا قتل کیا اور تین دفعہ انہیں دہشتگرد تنظیم کا ردرجہ مل چکا ہے۔ اس نظرئیے نے بھارت پر قبضہ کرلیا ہے۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ کشمیر میں انہوں نے 5 اگست کے بعد سے 80 لاکھ لوگوں کا محاصرہ کیا ہوا ہے، تمام سیاسی لیڈران انکی قید میں ہیں۔ ہزاروں نوجوانوں کو کشمیر سے اغوا کرلیا گیا ہے ۔ یہ ایک سنجید معاملہ ہے اور مجھے اس لئے لگتا ہے کہ حالات بگڑیں گے۔ انکے آرمی چیف نے ابھی سےا شتعال انگیزی شروع کردی ہے

اسی لئے میں کہتا ہوں کہ امریکی صدر ٹرمپ اور اقوام متحدہ مداخلت کرے کیونکہ اس تنازعے میں دو ایٹمی ممالک شامل ہیں۔اقوام متحدہ جیسی باڈیز 1945 کے بعد اسی لئے وجود میں آئیں تاکہ ایسے معاملات سے نبٹا جاسکے۔

اینکر کے سوال "کیا آپ کے خیال میں نریندرمودی اس انتہاپسندی کو ہوا دے رہے ہیں” پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ نریندرمودی آر ایس ایس کا تاحیات ممبر ہے اور آر ایس ایس ایک انتہاپسند نظریہ ہے۔ مغرب ابھی اس مسئلے کو نہیں سمجھتا۔ خطرہ یہ ہے کہ ایک ارب آبادی کا ایٹمی ملک اس نظرئیے کے قبضے میں آچکا ہے۔

یہ امن کیلئے خطرناک ہے اور کشمیر کے مسئلے کی موجودگی میں حالات مزید گھمبیر ہوجائیں گے۔ دنیا ایسے معاملات میں کیا کرتی ہے؟ اقوام متحدہ اور دیگر ممالک ان سب کو روکنے کیلئے اقدامات کرسکتے ہیں۔ بھارت میں ایسے قوانین بن رہے ہیں جو کروڑوں کی مسلمان آبادی کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ وہ ابھی سے احتجاج کررہے ہیں۔ غیر مسلم ، اقلتیں اور دیگر دانشور اس احتجاج میں شامل ہیں۔

جرمنی بھی ماضی میں ایک جمہوریت سے انتہاپسند ملک میں تبدیل ہوچکا ہے۔مجھے کشمیر میں بہت خون خرابے کا ڈر ہے کیونکہ آر ایس ایس کا مقصد کشمیر کی ڈیموگرافی بدلنا ہے ۔ کشمیر بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک متنازعہ علاقہ ہے۔ ڈیموگرافی بدلنا جنیوا کنونش میں جنگی جرم ہے۔


  • 24 گھنٹوں کے دوران 🔥

    View More

    From Our Blogs in last 24 hours 🔥

    View More

    This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept

    >