پنجاب میں اہم اجلاس کی اندرونی کہانی، وزیراعظم کے چاراقدامات اور واضح پیغامات

پنجاب میں اہم اجلاس کی اندرونی کہانی۔۔۔ وزیراعظم عمران خان کے ایک روز میں چار اقدامات اور واضح پیغامات۔۔۔؟؟؟ بہت سی باتیں واضح ہوگئیں؟؟ سنیئے

صدیق جان نے انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا میں ایک خفیہ میٹنگ کی گئی۔ اس میٹنگ کی تمام تفصیلات وزیراعظم عمران خان تک پہنچ گئیں کہ یہ میٹنگ کہاں ہوئی؟ کس کے کہنے پر یہ میٹنگ بلائی گئی؟ اس میٹنگ میں کون کون شریک تھا؟اس میٹنگ کا ایجنڈا کیا تھا؟ یہ تمام تفصیلات وزیراعظم عمران خان تک پہنچ گئیں جس کے بعد وزیراعظم نے اتنا بڑا اقدام اٹھایا۔

وزیراعظم عمران خان کن وزراء کے بارے میں سمجھتے تھے کہ یہ بہت اچھے ایماندار ہیں، کام کرتے ہیں لیکن ان وزراء کی تمام تر توجہ اپنے محکموں کی بجائے گروپنگ ، بلیک میلنگ اور لوگوں کو وزیراعلیٰ کے خلاف ورغلانے پر تھی۔

وزیراعظم عمران خان کے دورہ لاہور کی اندرونی کہانی بتاتے ہوئے صدیق جان نے کہا کہ وزیراعظم نے واضح کردیا ہے کہ پنجاب کے وزیراعلیٰ عثمان بزدار ہی رہیں گے۔ جو لابنگ اور کوشش کررہے ہیں وہ کوشش کرنا چھوڑدیں۔ وزیراعظم نے اپنے ارکان اسمبلی پر واضح کردیا ہے کہ اگر آپ کہیں گے کہ آپکا جائز کام ہو تو آپکا جائز کام ہوگا لیکن اگر آپ کہیں گے کہ آپکو ن لیگ والا دور واپس مل جائے ، اسی طرح تھانہ کچہری ہو، اسی طرح ڈی پی او آپکی مرضی کا لگایا جائے تو ایسا نہیں ہوگا۔

وزیراعظم نے ارکان اسمبلی سے کہا کہ مجھے دباؤ میں نہ لائیں، مجھے بلیک میل نہ کریں۔ میں نے اپنے تین وزیر ہٹائے ہیں ۔۔ جیسے ہی وزیراعظم نے یہ بات کی تو ناراض اراکین میں سے کچھ کھڑے ہوگئے اور وزیراعظم کی خوشامد کرنا شروع کردی اور کہا کہ ہم آپکو چھوڑ کر نہیں جائیں گے ، مستقبل آپکا ہی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ مجھے دباؤ میں نہ لائیں، میں دباؤ میں ہمیشہ اچھا کھیلتا تھا۔

صدیق جان نے انکشاف کیا کہ وزیراعظم عمران خان گورنر پنجاب سے نہیں ملے۔ جب ناراض اراکین کا گروپ سامنے آیا تو اچانک ہی مختلف چینلز پر چوہدری سرور کے انٹرویوز چلنا شروع ہوگئے۔ ایک ایک سلوٹ میں چار چار انٹرویو چل رہے تھے۔ وزیراعظم عمران خان نے چوہدری سرور سے ملاقات نہ کرکے انہیں پیغام دیا ہے کہ وہ کسی دباؤ میں نہیں آئیں گے۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>