حکمرانوں نے ایک سال میں پاکستانی معیشت کی کشتی ڈبو دی، مولانا فضل الرحمان

مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے حکمرانوں نے ایک سال میں پاکستان کی معیشت کی کشتی ڈبو دی ہے، اور اب دنیا اس انتظار میں ہے کہ کب پاکستان کو باقاعدہ دیوالیہ قراردیا جائے گا۔


کراچی میں آئین پاکستان تحفظ کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس سے خطاب کرتے ہوئے جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ہماری معیشت کو تباہ کردیا گیا ہے، کراچی جو ہماری شہ رگ ہے اس کی معیشت ڈوب چکی ہے، صنعتیں بند ہورہی ہیں سرمایہ دار اپنا سرمایہ بیرون ملک منتقل کررہے ہیں، کراچی میں تجاوزات کے نام پرشہر کو منہدم کردیا ، لوگوں کو بے گھر کردیا، حکمرانوں نے ایک سال میں پاکستان کی معیشت کی کشتی ڈبو دی ہے، اور اب دنیا اس انتظار میں ہے کہ کب پاکستان کو باقاعدہ دیوالیہ قراردیا جائے گا۔
انہوں نے عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پورے پاکستان کے ملازمین کی تعداد ایک کروڑ نہیں ہوگی تو آپ نے یہ دعوی کیسے کرلیا کہ حکومت میں آنے کے بعد ایک کروڑ نوکریاں دیں گے، یہ کون سی عقل والی بات ہے؟ یہ نئی نسل کے ساتھ مذاق ہے، اس قوم کے ساتھ دھوکہ ہے ، ایک کروڑ نوکریا ں دینا تو دور کی بات ملک میں 25 ہزار افراد بے روزگار ہوچکے ہیں، حکمرانوں نے قوم کےمنہ سے نوالا چھین لیا ہے، ایک سال کے قرضے 70 سالوں میں لیے گئے قرضوں سے بھی بڑھ گئے ہیں۔
مولانا فضل الرحمان کا کہناتھا کہ جب تک اس قسم کے ناجائز اور نااہل حکمران ہم پر مسلط ہیں نوجوان کا مستقبل تاریک رہے گا، اس قوم کا مستقبل تاریک ہوگا،ملک پر غیرملکی ایجنٹوں کو مسلط کردیا گیا ہے جو غیرملکی مفادات کے محافظ ہیں وہ پاکستان کو دیوالیہ دیکھنا چاہتے ہیں، بھارت واجپائی کے دور میں پاکستان سے تجارت کا خواہاں تھا آج پاکستان کی معاشی کمزوریوں کی وجہ سے مودی کو یقین ہے کہ پاکستان کے پاس کشمیر کو قابو میں رکھنے کی طاقت نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان میں مسلمانوں پر ظلم ہورہے ہیں، مساجد جلائی جارہی ہیں لیکن پاکستان مسلمانوں کے دفاع کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ حکمرانوں کی وجہ سے چین، ایران، افغانستان پاکستان سے دور ہوکر بھارت کے قریب ہورہےہیں اور پاکستان خطے میں تنہا رہ گیا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ان تمام نااہلیوں کے ذمہ دار حکمران ہیں اور ان حکمرانوں کے لانے والے بھی ہیں، ہم ان نااہل حکمرانوں کو گھر بھیجیں گے ، ہم دھمکیوں سے ڈرنے والوں میں سے نہیں ہیں۔
موقع کی مناسبت سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا کا کہنا تھا کہ جب بھی آئین کے بنیادی ڈھانچے میں تبدیلی کی جاتی ہے تو آئین ٹوٹ جاتا ہے، ہمارے آئین کی بنیاد 4 نکات پر رکھی گئی، نمبر ایک پاکستان اسلامی جمہوریہ ریاست ہوگا، یہ سیکولر ریاست نہیں بلکہ اسلامی ریاست ہوگا، یہاں جمہوری حکومت ہوگی یہاں آمریت نہیں ہوگی، ملک میں وفاقی نظام ہوگا اس کے نیچے صوبہ جاتی نظام ہوگا، جو بااختیار ہوگا اور اس ملک میں پارلیمانی نظام ہوگا جہاں عوام کے منتخب کردہ امیدوار وں کی وساطت سے پارلیمنٹ کی بالاد ستی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ18ویں ترمیم کے وقت بھی ان 4 نکات پر اتفاق ہوا، تمام مکاتب فکر قرارداد پاکستان پر متفق ہیں ، قرارداد مقاصد پر کسی کا کوئی اختلاف نہیں، آئین کی تمام اسلامی شقوں پر کسی کا اختلاف نہیں۔

لیکن پاکستان عملی طور پر نہ اسلامی ریاست بن سکا نہ جمہوری مملکت بن سکا، آج کے حکمران آئین کی اسلامی حیثیت کے خاتمے کا ایجنڈا لے کر آئے ہیں، جس طرح عقیدہ ختم ِ نبوت کو پامال کرتے ہوئے قادیانیت کو تحفظ دیا جارہا ہے ، کس طرح ناموس رسالت کے مرتب لوگوں کو تحفظ دیا جاتا اور اعزازات سے نوازا جاتا ہے، آج ملک میں فحاشی، عریانی اور بے حیائی کو انسانی حق قرار دیا جارہا ہے، یہ آئین کا تقاضا نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ قوم یہ عزم کرے کہ حکمرانوں کو اس ملک کے اسلامی تشخص کو پامال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، ان حکمرانوں کی جمہوریت دشمن پالیسیوں کو جام کیا جائے گا اور نا ہی کسی کو جمہوریت کا مذاق اڑانے کی اجازت دی جائے گی
مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ناموس رسالت کیلئے اس قوم کو ایک پلیٹ فارم پر لانا ہے،کسی بیرونی قوت کو یہ اجازت نہیں دیں گے کہ وہ پاکستانیوں کے عقائد کے ساتھ کھیلیں، ان کا کہنا تھا کہ کسی انسانی حق کے نام پر ہماری تہذیب کو روندنے کی بھی اجازت نہیں دی جائے گی۔
کارکنوں کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر ایسے اسلام دشمن افراد کو دیکھیں تو قانون کی مدد لیں، اگر قانون ان کا تحفظ کرے تو آپ اور آپ کی قربانیاں انہیں روکیں گی اور اسی طرح ہم اس ملک میں اسلامی اور ملکی تہذیب کو پامال ہونے کے تماشوں کا خاتمہ کریں گے۔


  • 24 گھنٹوں کے دوران 🔥

    View More

    From Our Blogs in last 24 hours 🔥

    View More

    This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept

    >