عمران خان یا نریندرمودی؟ ن لیگی ارکان اسمبلی کس کے ساتھ؟

نریندر مودی اور عمران خان آپشن میں ملے، لیگیوں نے مودی کو چن لیا

پاکستان میں سیاسی جماعتوں کے سیاسی اختلافات تو اپنی جگہ لیکن عام زندگی بھی سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ جس کا اظہار تمام رہنما وقتاً فوقتاً کرتے رہتے ہیں۔

نجی ٹی کے معروف پروگرام مذاق رات میں میزبان واسع چوہدری مذاق مذاق میں دل کی باتیں اگلوا ہی لیتے ہیں اور ہنسی ہسنی میں مہمان دل کی باتیں بیان کردیتے ہیں جس سے پروگرام میں بیٹھے شائقین سمیت ناظرین بھی خوب محظوظ ہوتے ہیں۔

واسع چوہدری اپنےپروگرام میں کئی سیاستدانوں کو بلاتے رہے ہیں،جن سے چٹ پٹے سوال کیے جاتے ہیں، ماضی میں واسع چوہدری نے پاکستان مسلم لیک کی رکن پنجاب اسمبلی بشریٰ بٹ سیالکوٹ سے لیگی ایم پی ارمغان سبحانی کو الگ الگ پروگرام میں بلایا اور وزیراعظم عمران خان اور بھارتی وزیراعظم نریندری مودی کے درمیان کسی ایک اور منتخب کرنے کا پوچھا۔

بشری بٹ سے واسع چوہدری نے سوال کیا کہ ڈوبٹی کشتی میں سوار آپ کے پاس دو لائف جیکٹ ہیں ایک آپ اپنی اور دوسری آپ دو میں سے کسی ایک کو دے سکتی ہیں اور آپشنز میں عمران خان اور مودی کے نام دے دیئے، پہلے تو بشریٰ نے اوہ گاڈ کہا پھر جھٹ سے مودی کو بچانے کا کہہ دیا، جس پر پروگرام میں شریک شخص نے کہا اس پر تو نواز شریف بھی خوش ہونگے، یہ کہنا تھا کہ پروگرام میں قہقہے بکھر گئے۔

واسع چوہدری لیگی ایم پی ارمغان سبحانی سے پوچھااگر آپ کو گھر میں جناب عمران خان یا نریندر مودی کی تصویر لگانے کا کہا جائے تو کس کی لگانا پسند کریں گے، تو انہوں نے فوراًکہا عمران خان سے بہتر ہیں نریندر مودی۔ جس پر پھر کہا گیا کہ اس سے میاں صاحب بھی خوش ہوجائیں گے۔

موجودہ صورتحال میں بھی لیگیوں اور تحریک انصاف کے درمیان تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔

OR comment as anonymous below

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


24 گھنٹوں کے دوران 🔥

View More

From Our Blogs in last 24 hours 🔥

View More