جنوبی پنجاب صوبے پر لغاری برادران کی قلابازیاں

لغاری برادران آج کل جنوبی پنجاب صوبہ نہ بنانے پر تحریک انصاف حکومت کو آڑے ہاتھوں لے رہے ہیں۔ یہی لغاری برادران جب پنجاب اسمبلی میں تھے تو جنوبی پنجاب کو صوبہ نہ بنانے پر کیا کہتے رہے؟ آپ بھی سنئے

اویس لغاری اور جمال لغاری 2013 کے بعد جنوبی پنجاب صوبے کی کھل کر مخالفت کرتے تھےلیکن آج کل جنوبی پنجاب صوبے پر پوائنٹ سکورنگ میں مصروف ہیں جیسے صوبہ جنوبی پنجاب انکا دیرینہ مطالبہ ہو۔ لغاری برادران جنوبی پنجاب صوبے پر کئی بار یوٹرن لے چکے ہیں۔

اویس لغاری کے بھائی جمال لغاری 2014 میں ن لیگ کے ایم پی اے تھے تو اپنی تقریر میں انہوں نے کہا کہ میں جب سینیٹر تھا تو میں جنوبی پنجاب صوبے کے حق میں آواز اٹھاتا تھا لیکن آج اس مطالبے سے دستبردار ہورہا ہوں۔

جمال لغاری نے مزید کہا کہ میں اللہ تعالیٰ کا احسان مند ہوں، مجھے اسی پنجاب میں رہ کر خوشی اور اطمینان قلب مل رہا ہے۔

اگرچہ جمال لغاری الیکشن ہارگئے تھے ، انکے چھوٹے بھائی اویس لغاری صوبائی اسمبلی کی سیٹ پر جیت کر ایم پی اے بنے اور آج کل سیاسی پوائنٹ سکورنگ میں پیش پیش ہیں اور یہ مطالبہ کررہے ہیں کہ جنوبی پنجاب کو صوبہ بنایا جائے۔ ہمیں جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ نہیں چاہئے۔

یادرہے کہ جمال لغاری اور اویس لغاری متعدد پارٹیاں بدل چکے ہیں۔ پہلے وہ ق لیگ کا حصہ تھے تو مشرف کے گن گاتے تھے، جمال لغاری سینیٹر بنے، اویس لغاری اور انکے والد ایم این اے بنے۔ اسکے بعد جمال لغاری اور اویس لغاری تحریک انصاف کا حصہ بنے تو عمران خان کی قصیدہ گوئی کرتے تھے۔ 2013 کے قریب الیکشن کے قریب ہوا کا رخ دیکھ کر ن لیگ میں چلے گئے جبکہ 2018 کے الیکشن میں دونوں بھائی تحریک انصاف کے زرتاج گل اور محمد خان لغاری کے ہاتھوں اپنی تمام سیٹیں گنوا بیٹھے اور اویس لغاری محمد خان لی چھوڑی گئی صوبائی اسمبلی کی نشست پر ایم پی اے بنے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >