کتنے فیصد لوگ وزیر اعظم عمران خان کی سمارٹ لاک ڈاؤن پالیسی کے حامی؟

وزیر اعظم عمران خان کی سمارٹ لاک ڈاؤن پالیسی کے 63٪ عوام حمایتی

انسٹی ٹیوٹ آف پبلک اوپینیئن ریسرچ کے سروے کے مطابق کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو محدود کرنے کیلئے عوام کی اکثریت وزیر اعظم عمران خان کے سمارٹ لاک ڈاؤن کی حامی ہے بلکہ 52فیصد عوام کورونا کے معاملے پر ان کی کارکردگی سے بھی مطمئن ہیں ،21فیصد لوگ مکمل لاک ڈاؤن کی حمایت کرتے ہیں، جبکہ 42فیصد لوگ حکومتی کوشش سے ناخوش ہیں.

2018کے بعدپہلی بار عوامی پسندیدگی میں ن لیگ پی ٹی آئی سے آگے نکل گئی ہے. حکومتی ترجمان کا کہنا ہے سروے ہوتے رہتے ہیں یہ عوام میں مقبولیت کی صحیح عکاسی نہیں کرتے.

انسٹی ٹیوٹ آف پبلک اوپینیئن ریسرچ وہی ادارہ ہے جس نے مقبولیت کو دیکھتے ہوئے 2018کے انتخابات سے قبل ہی تحریک انصاف کی حکومت کی پیش گوئی کر دی تھی.

یہ اعدادوشمار سروے کے نتیجے میں سامنے آئے جس میں ملک بھر سے شماریاتی طور پر منتخب 17سو سے زائد افراد نے حصہ لیا ،یہ سروے 19جون سے 30 جون کے درمیان کیا گیا.

کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے کے سمارٹ یا مکمل لاک ڈاؤن کے سوال پر سروے میں 63 فیصد لوگوں نے وزیر اعظم کے سمارٹ لاک ڈاؤن کی پالیسی کی حمایت کی جبکہ 21 فیصد نے مکمل لاک ڈاؤن کی پالیسی کو نافذ کرنے کا مطالبہ کیا، 16 فیصد نے اس سوال کا کوئی جواب نہیں دیا۔

اگر آئندہ ہفتے کرائے جائیں تو اس صورت میں 27فیصد افراد پاکستان مسلم لیگ ن، 24 فیصد تحریک انصاف کو ووٹ دینے کا کہہ رہے ہیں ، 11فیصد پیپلز پارٹی ، 3 فیصد جمعیت علمائے اسلام ف ، 2 فیصد تحریک لبیک پاکستان، 1 فیصد پاکستان مسلم لیگ ق جبکہ 1فیصد اگلے ہفتے انتخابات کروانے کی صورت میں متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کو ووٹ دینے کا کہتے نظر آئے.

کورونا وائرس کے معاملے پر وزیر اعظم عمران خان کی کوششوں سے بھی سروے میں 52فیصد افراد مطمئن نظر آئے جبکہ 42فیصد نے ان کی کوششوں پر عدم اطمینان کا اظہار کیا.

انسٹی ٹیوٹ آف پبلک اوپینیئن ریسرچ )آئی پور( نے عوام سے یہ بھی پوچھا کے کونسی شخصیت پاکستان کو درپیش مسائل کو حل کرسکتی ہے؟ جس کے جواب میں 27 فیصد نے پی ایم ایل ن کے رہنما شہباز شریف کا نام لیا، 22 فیصد نے وزیر اعظم عمران خان پر اعتماد کا اظہار کیا.

جب کہ 5 فیصد نے بلاول بھٹو، 3 فیصد نے مولانا فضل الرحمان ، 2 فیصد نے سراج الحق ،جبکہ 2 فیصد نے خادم حسین رضوی کا نام لیا، 2 فیصد نے دیگر نام لیے جبکہ 6 فیصد نے کہا کے ملکی مسائل صرف اللہ کی ذات ہی حل کرسکتی ہے۔

کے موجودہ ملکی صورتحال کو مدنظر رکھ کر بتائیں کہ کیا حکومت کو 5سال مکمل کرنے چاہئیں یا فوری طور پر عام انتخابات کروا دینے چاہئیں ؟

سروے میں یہ بھی سوال کیا گیا کہ کیا موجودہ حکومت کو 5 سال پورے کرنے چاہئیں؟ جواب میں 57 فیصد افرادنےموجودہ حکومت کے 5سال مکمل کرنے کی بھرپور حمایت کی.

جبکہ 29 فیصد نے ملک میں فوراً عام انتخابات کروانے کا مشورہ دیا،14فیصد نے اس پر کوئی رائے نہیں دی جس کے بعد سروےمیں عوام سے بجٹ کے بارے میں پوچھا گیا تو21 فیصد افراد نے بجٹ سے مطمئن ہونے کا کہا۔ جبکہ 52 فیصد نے بجٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کیا.

یہ بھی سوال کیا گیا کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی بڑی وجہ کیا ہے ؟ تو 33فیصد افراد نے لاپروائی اور بے احتیاطی کو وائرس کے تیزی سے پھیلنے کی اہم وجہ بتایا۔

11 فیصد نے نرم لاک ڈاؤن ، 9 فیصد نے ایس او پیز پر عملدرآمد نہ ہونے اور 9 فیصد نے ہی کمزور حکومتی پالیسیز ، 7 فیصد نے وائرس کو افواہ سمجھنے، 5 فیصد نے سوشل ڈسٹنسنگ پر عمل نہ کرنے ،جبکہ 6 فیصد نے عوامی اجتماعات کو وائرس کے پھیلنے کی اہم وجہ قرار دیا.

یہ بھی پوچھا گیا کہ اگر کورونا وائرس کی ویکسین دستیاب ہوجائے تو کیا آپ اپنے اہلخانہ سمیت ویکسین لگائیں گے؟

جواب میں 67فیصد پاکستانیوں نے اپنے اہلخانہ سمیت کورونا وائرس کی ویکسین استعمال کرنے کا کہا جبکہ 25 فیصد نے ایسا کرنے سے انکار کیا۔

8فیصد نے اس سوال کا کوئی جواب نہیں دیا۔سروے میں جن 25فیصد افراد نے ویکسین نہ لگانے کا کہا ان سے جب اس کی وجہ پوچھی گئی تو 19فیصد نے ویکسین پر بھروسہ نہ کرنے کا کہا، جبکہ17فیصد نے کہا کہ انہیں اس کی ضرورت نہیں.


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >