جج ارشد ملک کی برطرفی مریم نواز، نواز شریف کیلئے کیسے مشکلات پیدا کر سکتی ہے؟

جج ارشد ملک کی برطرفی مریم نواز اور نواز شریف کے لئے کیسے مشکلات پیدا کر سکتی ہے؟ ملیحہ ہاشمی کا تجزیہ

معروف بلاگر ملیحہ ہاشمی کا جج ارشد ملک کی برطرفی کے بعد ن لیگ کے متوالوں کی جانب سے مٹھائیاں بانٹنے پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ایک اور جمعہ اور ایک اور بڑا فیصلہ عدلیہ کی جانب سے سامنے آیا ہے، لیکن افسوس کی بات کہ یہ فیصلہ انگریزی زبان میں ہے جس کی وجہ سے نواز شریف اور مریم نواز کے چاہنے والوں کی جانب سے اندھادھند مٹھائیاں تقسیم کی جا رہی ہیں۔ جیسے جیسے ان کو انگریزی کا اردو میں ترجمہ کرکے فیصلہ سمجھایا جا رہا ہے ویسے ویسے ان کی پریشانی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ملیحہ ہاشمی کا مزید کہنا تھا کہ جج ارشد ملک کی برطرفی شاید ہمارے لئے اتنے بڑے دھچکے کی بات نہیں ہے، کیونکہ ان کو نازیبا ویڈیوز کی مدد سے ان کو بلیک میل کیا جارہا تھا جس کا وہ اعتراف بھی کر چکے ہیں، انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز پر بہت سے لوگ جج ارشد ملک کے فیصلے کو لے کر غلط بیانی کر رہے ہیں اور لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، سابق وزیراعظم نواز شریف کو پاناما کیس میں نااہل کیا گیا تھا جس کا پانچ رکنی بینچ الگ تھا۔

اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ملیحہ ہاشمی کا کہنا تھا کہ یہاں دلچسپ بات یہ ہے کہ نواز شریف کے کیسز ن لیگ کی درخواست پر جج محمد بشیر کی عدالت سے جج ارشد ملک کی عدالت میں منتقل کیے گئے تھے، جس پر جہنم ملک نے فلیگ شپ کیس میں نواز شریف کو بری اور العزیزیہ ریفرنس کیس میں سزا سنائی تھی ، جس پر مریم نواز نے کہا تھا کہ دیکھئے کتنا ظلم کیا گیا ہے میرے والد پر، جج ارشد ملک نے شدید دباؤ میں آکر یہ فیصلہ سنایا ہے۔

ملیحہ ہاشمی نے جج ارشد ملک کی جانب سے عدالت میں جمع کروائے گئے بیان حلفی کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ جو بیان اہل بیت کی چار شد ملک کی جانب سے عدالت میں جمع کروایا گیا ہے اس میں جج ارشد ملک کا کہنا تھا کہ حسین نواز کی جانب سے مجھے 50 کروڑ روپے کی آفر ہوئی، اس کے ساتھ ہی مجھے اور میری پوری فیملی کو برطانیہ میں رہائش اور بچوں کو نوکریاں دینے کی پیشکش کی گئی، یہ آفرز مجھے صرف اس لئے دی گئی تھیں کہ میں اپنے عہدے سے استعفی دیتے ہوئے یہ جھوٹ بولوں کہ میاں نواز شریف کے کیس کا فیصلہ میرٹ پر نہیں ہے۔

جج ارشد ملک نے اپنے بیان حلفی میں مزید بتایا کہ میاں نواز شریف کے ساتھی میاں طارق نے مجھے غیر اخلاقی ویڈیو دکھائی جو میرے لئے پریشانی کا باعث بنی اور مجھے ایسی ویڈیو کے ذریعے بار بار بلیک میل کیا گیا، ملیحہ ہاشمی کا ن لیگ کے علم میں اضافہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ جب جج ارشد ملک نے صاف صاف آپ لوگوں کے خلاف بیان حلفی عدالت میں جمع کروا دیا گیا ہے تو آپ لوگ کس خوشی میں مٹھائیاں بانٹ رہے ہیں؟

ملیحہ ہاشمی نے بتایا کہ جج ارشد ملک کو احتساب عدالت کا جج ن لیگ نے خود اپنے دور حکومت میں لگایا تھا، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی حمایت پر اس وقت کے صدر ممنون حسین نے جج ارشد ملک کو اس احتساب عدالت میں منتقل کیا جس میں نواز شریف کا کیس تھا، اس کے بعد نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کی درخواست پر جج محمد بشیر کی عدالت سے جج ارشد ملک کی عدالت میں منتقل ہوئے، جہاں پر نواز شریف کو ایک کیس میں بری اور دوسرے میں سزا سنائی گئی۔

ملیحہ ہاشمی نے کہا کہ جج ارشد ملک کو برطرف کرنے کے لیے عدالت کے فیصلے پر ن لیگ کو خوشی منانے کی بجائے اپنے آئندہ کے لائحہ عمل کے بارے میں سوچنا چاہیے کیونکہ جج ارشد ملک کا بیان حلفی نواز شریف اور ان کی پارٹی کے کچھ ممبران کے لئے پریشانی کا باعث بن سکتا ہے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >