جج ارشدملک سکینڈل: نواز شریف کو اس اسکینڈل کا کیا، کتنا اور کیسے فائدہ ہوسکتا ہے؟

جج ارشد ملک اسکینڈل پر سپریم کورٹ کے 3 ججز نے کونسے 7 اہم سوالات اٹھائے تھے؟؟ نواز شریف کو اس اسکینڈل کا کیا، کتنا اور کیسے فائدہ ہوسکتا ہے؟ سنیئے تفصیلات

صدیق جان کا کہنا تھا کہ جب یہ کیس سپریم کورٹ میں آیا تو جج صاحبان نے سوال کیا کہ معاملہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں کیوں نہیں رکھا گیا کیونکہ نوازشریف کی اپیلیں تو اسلام آباد ہائیکورٹ سن رہی تھی۔ اگر عدالت کو جج کی جانبداری نظر آجائے تو وہ واپس ری ٹرائیل کیلئے بھجواسکتی ہے، ایسا کوئی مسئلہ نہیں۔

صدیق جان نے یاددلایا کہ اس وقت سپریم کورٹ نے اس وقت کے اٹارنی جنرل انور منصور خان پر برہمی کا اظہار کیا تھا کہ اس جج کو تو فارغ ہونا چاہئے تھا اور آپ اسے تحفظ فراہم کررہے ہیں، اس جج نے تو ہمارے سر شرم سے جھکادئیے ہیں، یہ جج تو اعتراف کررہا ہے کہ یہ ن لیگ کے لوگوں سے ملاقاتیں کرتا رہا اور اس جج کو پانامہ کے بعد ہی احتساب عدالت میں لگایا گیا تھا۔

اس وقت سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا تھا کہ بارثبوت مریم نواز پر ہے۔جج ارشد ملک نے تردید کی کہ میں نے ایسے نہیں کہا جیسے توڑمروڑ کر پیش کیا گیا۔ایک موقع ایسا بھی آیا جب شہباز شریف نے ایف آئی اے کے سامنے اس ویڈیو سے لاتعلقی کا اظہار کیا۔صدیق جان کا مزید کہنا تھا کہ مریم نواز نے اپنی پریس کانفرنس میں مکمل سچ نہیں بولا تھا، بعد میں ارشد ملک نے اپنے بیان حلفی میں کئی حقائق سے پردہ اٹھایا۔

صدیق جان کا کہنا تھا کہ اگر ن لیگ اسے ثبوت کے طور پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش کرنا چاہتی ہے تو قانونی معیار اور طریقہ کار ہے اسے اپنانا ہوگا۔ اس کی ٹریل دینا ہوگی کہ کس کس نے ریکارڈ کیا؟ کون کون شامل تھا؟ کس موبائل یا ڈیوائس سے ریکارڈ کیا گیا۔ یہ ریکارڈنگ کتنا عرصہ کسی کے پاس رہی؟ کس سسٹم پہ اسکو ایڈٹ کیا گیا؟ جو لوگ اس ریکارڈنگ یا ایڈیٹنگ میں ملوث تھے ان سب کو پیش ہونا ہوگا، وہ سب بیانات دیں گے، ان پر جرح ہوگی۔ پھر اس ویڈیو کو دیکھا جائے گا کہ یہ ویڈیو ٹھیک ہے یا نہیں۔ اگر یہ ثابت ہوجائے کہ یہ ٹھیک ہے تو دیکھا جائے گا کہ یہ کیس سے متعلقہ ہے یا نہیں، اسکے بعد تیسرے مرحلے میں فیصلے اور ویڈیو کے مواد کو دیکھا جائے گا۔

اسکے بعد تین کام ہوسکتے ہیں، پہلا اسلام آباد ہائیکورٹ یہ کہہ سکتی ہے کہ آپ کیا نیا ثبوت دینا چاہتے ہیں، دوسرا اسلام آبادہائیکورٹ فائنل دلائل کی حد تک واپس ٹرائل کورٹ کو بھیج دے کیونکہ وہ شواہد ریکارڈ ہوئے ان پر کوئی اعتراض نہیں، تیسرا اسلام آباد ہائیکورٹ یہ کہے کہ فائنل آرگومنٹ اور شواہد طے شدہ ہیں، فیصلہ لکھنے کیلئے کسی اور جج کو بھجوادیں

صدیق جان نے کہا کہ مریم نواز نے پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا تھا کہ جج ارشد ملک کی ایک گندی ویڈیو ہے، اتنے اعتماد سے وہی بندہ کہہ سکتا ہے جس نے یہ ویڈیو دیکھی ہو۔

صدیق نے مزید کہا کہ حیرت کی بات یہ ہے کہ جس ارشد ملک کو خود ن لیگ نے لگوایا، جس ارشد ملک کے پاس کیسز خود ن لیگ نے بھجوائے، جس ارشد ملک نے حسین نواز سے ملاقاتیں کیں، جس ارشد ملک نے نوازشریف سے ملاقاتیں کیں، جس نے ایک کیس میں نوازشریف کو بری کیا اور دوسرے کیس میں نوازشریف کو کم سزا سنائی، اس ارشد ملک کو برطرف کیا گیا ہے اور رس گلے کون کھارہا ہے؟ ن لیگ والے۔۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >