جے آئی ٹی ڈرامہ بے نقاب، عمران خان کی صفوں میں دشمن کون؟

جے آئی ٹی ڈرامہ بے نقاب۔۔ کس نے جے آئی ٹی سے پیپلزپارٹی کے لوگوں کے نام نکلوائے؟ عمران خان کی صفوں میں دشمن کون ہیں؟ عمران خان کے آستین کے سانپ کیسے عمران خان کو بدنام کررہے ہیں؟ کیا عمران خان کو اپنے دشمنوں کا پتہ چل گیا ہے ؟

اینکر عمران خان نے اپنے وی لاگ میں کہا کہ سندھ حکومت نے جے آئی ٹی ریلیز کی تو قانون نافذ کرنیوالے اداروں نے عزیر بلوچ کا بیان حلفی ریلیز کردیا۔ تاکہ لوگوں کے سامنے اصل حقائق سامنے آئیں۔ اپ دو تین سوالات ہیں، سندھ حکومت نے جو جے آئی ٹی ریلیز کی کیا یہ اصل جے آئی ٹی ہے ؟ تو اسکا جواب نہیں ہے۔

اینکر عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں جنرل راحیل اور نوازشریف کو یہ کریڈٹ دینا پڑے گا کہ ان کے دور میں کراچی میں امن آیا تھا۔ جنرل راحیل شریف نے فورس کی مدد سے کراچی میں آپریشن کروایا اور نوازشریف سے سیاسی طور پر معاملے کو ہینڈل کیا۔ لیکن جب جے آئی ٹی بنی تو اس وقت بہت سے لوگوں نے اعتراض کیا، پیپلزپارٹی والوں نے یہ کہا کہ ہمارا نام جرائم پیشہ عناصر سے جوڑیں گے۔

اینکر عمران خان نے انکشا ف کیا کہ پیپلزپارٹی کے جن لوگوں نے ان سے قتل کروائے، بھتے منگوائے، چائنہ کٹنگ کروائی، زمینوں اور شوگر ملوں پر قبضے کروائے،ان سب کے نام جے آئی ٹی سے نکلواکر افسران سے دستخط کروائے گئے۔ افسران دستخط نہیں کررہے جس پر نوازشریف نے اداروں کو قائل کیا کہ سیاسی لوگوں کے نام نکلوائے جائیں لیکن جے آئی ٹی مکمل کی جائے ۔ اس وقت سیاسی لوگوں کے نام نکال دئیے گئے۔

مزید انکشافات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چوہدری نثار ان سیاسی لوگوں کے نام نکلوانے کے مخالف تھے لیکن انکے وزارت سے ہٹتے ہی یہ کام ن لیگ اور پیپلزپارٹی کیلئے آسان ہوگیا۔اب جو جے آئی ٹی سامنے آئی ہے وہ ہومیوپیتھک جے آئی ٹی ہے۔ جس شخص نے قتل کیا وہ بتارہا ہے کہ اس نے کس کے کہنے پر قتل کیا لیکن جس کے کہنے پر قتل کیا اسکا نام سامنے نہیں آرہا، قبضہ کرنیوالا پکڑا گیا، وہ بتارہا ہے کہ اس نے کس کے کہنے پر قبضہ کیا لیکن اسکا نام نہیں آرہا، شوگر ملز پر قبضہ کرنیوالا تو پکڑا گیا قبضہ کرنیوالا بتارہا ہے کہ اس نے کس کے کہنے پر قبضہ کیا لیکن اسکا نام نہیں آرہا۔ بھتہ اکٹھا کرنیوالا پکڑا گیا لیکن جن لوگوں کے لئے اکٹھا کرتا انکا نام نہیں آرہا۔

سانحہ بلدیہ پر تبصرہ کرتے ہوئے اینکر عمران خان نے کہا کہ سانحہ بلدیہ بہت بڑا ظلم کیا، فیکٹری مالکان بھتہ نہیں دے رہے جس پر حماد صدیقی جیسے لوگوں نے کیمیکل پھینکا اور آگ لگادی اور سینکڑوں لوگ زندہ جل گئے۔ یہ جلیانوالہ باغ سے بھی بڑا حادثہ تھا۔ میں اس دن وہاں رپورٹنگ کرنے گیا تھا، حماد صدیقی بھی اسی سڑک پر کھڑا تھا، میں نے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ یہ حماد صدیقی ہے جس پر میرے رپورٹر نے میرا ہاتھ پکڑ کر نیچے کیا اور کہا کہ بھائی کی طرف اشارہ نہ کریں کوئی مسئلہ بن جائے گا۔ ان کی یہ بدمعاشی تھی، ان سے سوال نہیں کیا جاسکتا تھا۔

ایم کیوایم کا طریقہ یہ ہے کہ یہ لوگوں کو مارتے بھی تھے پھر انکے لئے ہاتھ اٹھاکر دعا بھی کرتے تھے، میں اگلے دن سانحہ بلدیہ کے مرنیوالوں کے گھر گیا تو وہاں ایم کیوایم کے لوگ بیٹھے تھے۔ وہ سب لوگ کہہ رہے تھے کہ الطاف بھائی انصاف دلائیں گے۔

وزیراعظم عمران خان کی صفوں میں دشمن کون ہیں؟ اینکر عمران خان نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان صاحب کی اپنی صفوں میں دشمن ہیں، حکومت جو بھی اچھا کام کرتی ہے الٹا وہ اسکے گلے پڑجاتا ہے۔ حکومت نے چینی بحران پر جے آئی ٹی بنائی، ایسا پاکستان کی تاریخ میں نہیں ہوا لیکن الٹا انہیں بدنامی ملی۔ چینی راتوں رات غائب جو چینی 70 روپے کلو ملنی چاہئے تھی وہ نہیں ملی۔ خان صاحب نے پٹرول سستا کیا تو پٹرول غائب۔ جب پٹرول مہنگا کیا تو راتوں رات پٹرول ملنا شروع ہوگیا۔

اینکر عمران خان نے مزید کہا کہ خان صاحب کو پتہ چل گیا ہے کہ کس کا کیا رول تھا؟ ابھی نام لینا مناسب نہیں ہے۔ خان صاحب مناسب وقت کا انتظار کررہے ہیں کہ کب انکی چھٹی کروانی ہے۔ خان صاحب کو اندر سے ہی ڈنگ مارا گیا ہے، پٹرول والے معاملے میں بھی ، چینی والے معاملے میں بھی۔ آٹے کے معاملے پر بھی ایسا ہے، ایسا لگ رہا ہے کہ سارا سسٹم ملکر اپنے ہی وزیراعظم کے خلاف سازش کررہاہے۔ اب تو وزیر بھی بولنا شروع ہوگئے ہیں جو خان صاحب کے احترام میں چپ رہتے تھے۔ اب یا تو خان صاحب ٹریپ ہوں گے یا سارے معاملے سے نکلیں گے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >