پی پی رہنماؤں کے عزیربلوچ سے رابطے، سابق سیکٹر کمانڈر سندھ رینجرز کے انکشافات

پی پی رہنماؤں کےعزیربلوچ سے رابطےتھے، فریال تالپور اور وزیراعلیٰ سندھ عزیربلوچ سےملاقاتیں کرتےتھے۔سابق سیکٹر کمانڈر سندھ رینجرز بریگیڈیئر (ر) باسط شجاع

سابق سیکٹر کمانڈر سندھ رینجرز بریگیڈیئر (ر) باسط شجاع نے انکشاف کیا کہ کسی بھی جگہ پر کوئی جرم نہیں ہو سگتا جب تک سیاسی مدد حاصل نہ ہو ۔ پیپلزپارٹی کے لیڈران عزیربلوچ سے رابطےتھے، وزیراعلیٰ اور فریال تالپور عزیر بلوچ کے گھر عشائیے پر جاتے اور ملاقاتیں کرتے تھے۔

ندیم ملک کے شو میں گفتگو کرتے ہوئے بریگیڈیئر(ر)باسط شجاع نے کہا کہ ذوالفقار مرزانےلیاری گینگ وارکاساتھ دیاتھا، 2013میں آپریشن میں گینگسٹر ثاقب باکسر مارا گیا تو قادرپٹیل نے اس کے بعد سندھ رینجرز کا محاصرہ کیاتھا، آپریشن میں گینگسٹرمارےگئے اور قادرپٹیل نےلاشیں رکھ کراحتجاج کیا۔

انہوں نے بتایا کہ قادرپٹیل اور لیاری کےلوگوں نے شاہراہ کو لاشیں رکھ کربندکردیاتھا، لیاری آپریشن میں بہت سےلوگ بھاگے اور پکڑے گئے،کراچی کےجرائم میں سیاسی گٹھ جوڑکسی سے ڈھکا چھپا نہیں، کراچی میں تمام کالعدم تنظیموں کےلوگ سیاسی تنظیموں سےمنسلک ہوتےتھے۔

بریگیڈیئر(ر)باسط شجاع کے مطابق عزیربلوچ نے اعتراف کیا کہ وہ افسران کے تبادلے کراتا تھا عزیربلوچ کو کچھ سیاسی لوگ تحفظ دے رہےتھے اور کچھ سیاسی لوگوں کی مددسے وہ ملک سےباہربھاگ گیا تھا۔عزیز بلوچ نے 198 لوگوں کے قتل اور غیر ملک کے لیے جاسوسی کا اعتراف کیا ، اسے سندھ حکومت کی سرپرستی حاصل تھی ۔

انکا مزید کہنا تھا کہ آپریشن سے پہلے لیاری نو گو ایریا تھا ، 2012 میں ہونے والے آپریشن کو 2013 کے مقابلے قانونی حیثیت حاصل نہیں تھی ، لیاری گینگ وار کے سربراہ عزیر بلوچ کو پاکستان سے بھگانے میں کچھ سیاسی لوگ تحفظ فراہم کر رہے تھے

انہوں نے کہا کہ جےآئی ٹی رپورٹ 2016میں مکمل ہوگئی تھی جسے 2020تک دبا کر رکھا گیا،2018سےجےآئی ٹی رپورٹ کوپبلک نہیں کیاگیا مگر اب رپورٹ سندھ ہائی کورٹ کےاحکامات کےبعدپبلک ہوئی۔

سابق سیکٹرکمانڈرسندھ رینجرز کا مزید کہنا تھا کہ نیٹوکا اسلحہ بھی لیاری میں گیا اس علاقے میں بہت اسلحہ جمع ہوگیاتھا، ایم 16رائفلز میں نے خود لیاری سے پکڑیں تھیں۔ذوالفقار مرزا نے خود تسلیم کیا کہ انہوں نے لائسنس دئیے


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >