خواجہ آصف کو قومی اسمبلی میں اسلام آباد مندر کی حمایت میں تقریر مہنگی پڑگئی

خواجہ آصف کو قومی اسمبلی میں اسلام آباد مندر کی حمایت میں تقریر مہنگی پڑگئی

خواجہ آصف کی جانب سے دین اسلام اور دیگر مذاہب کے لوگوں مبینہ طور پر برابر قرار دینے پر فتوؤں کی زد میں۔۔ تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے رہنما خواجہ آصف پر سیخ پا

تحریک انصاف ناروال کے رہنما نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ خواجہ آصف نے اپنے آپکو کفریہ طاقتوں کے سامنے اپنے آپکو لبرل ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ ہم نے اسکے خلاف مقدمہ کی درخواست کی ہے۔

جماعت اسلامی کے سابق ایم پی اے ارشد محمود بگو نے خواجہ آصف سے متعلق سخت الفاظ استعمال کئے اور انہیں بے غیرت اور مرزائیوں کا حمایتی تک کہہ دیا ۔ اس نے دعویٰ کیا کہ ہماری نئی نسل کو یہ معلوم نہیں کہ1992 میں جب مرزائیوں کا جلوس نکلا تھا جناب خواجہ آصف کے باب خواجہ صفدر کو جوتیوں کا ہار پہنایا گیا تھا، اس لیے کیوں کہ خواجہ آصف کا باپ مرزائیوں کا حمایتی تھا۔

سابق رکن صوبائی اسمبلی کا احتجاج کے شرکاء سے خطاب میں مزید کہنا تھا کہ خواجہ آصف جو کل تک ایک معمولی سے نجی بینک میں معمولی سا کلرک تھا وہ آج کروڑوں روپے کی جائیدادوں کا مالک بن کر بیٹھا ہوا ہے، تم نے جو قومی اسمبلی میں کہا ہے ہم بارہا لعنت بھیجتے ہیں، اس موقع پر موجود شرکاء نے بھی "خواجہ آصف مردہ باد "اور "خواجہ آصف تم پر لعنت ہو ” کے نعرے لگانا شروع کر دئیے اور اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا۔

دوسری جانب خواجہ آصف کے قومی اسمبلی کے بیان پر عالم دین اور مفتی سید عدنان کاکاخیل کا سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے اور اپنا احتجاج ریکارڈ کرواتے ہوئے لکھا تھا کہ ” ‏تمام ادیان کو برابر قرار دے کر خواجہ آصف دینِ برحق کی سخت توہین کے مرتکب ہوۓ ہیں۔کیا مسلم لیگ ن کی صفوں سے اسلام سے ناتا جوڑنے والے رخصت ہو گۓ ہیں جو ابھی تک خواجہ آصف کا مواخذہ نہیں ہوا؟کارکنوں کو چاہیے کہ اپنی قیادت سے شدید احتجاج کریں اور معافی منگوائیں، ‎#خواجہ_آصف_جھوٹ_نہ_بو”

خیال رہے کہ خواجہ محمد آصف کا قومی اسمبلی میں خطاب کرتے اور اسلام اور اقلیتوں کو برابر قرار دیتے ہوئے کہنا تھا کہ ” جب میں نے 1960 اور 1970 کی دہائی میں ہوش سنبھالا تو اس وقت پاکستان کی سوسائٹی بہت ہی تحمل والی تھی، رواداری اور برابری تھی، آج وہ نہیں پائی جاتیں۔

خواجہ آصف نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ بوسٹن میں ایک بہت بڑا چرچ ہے جہاں پر جمعہ کی نماز بھی پڑھائی جاتی ہے، جب مسلمانوں نے جمعہ کی نماز پڑھنی ہوتی ہے تو وہ اسے چرچ کا سارا سامان ہٹا دیا جاتا ہے اور صفیں بچھا دی جاتی ہیں، میں نے خود نیویارک کے ایک چرچ میں عید کی نماز پڑھی ہے، ہمارے ہاں یہ تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا دین ہمیں یہ نہیں سکھاتا، میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان میں پائی جانے والی 22 کروڑ عوام میں موجود اقلیتیں اور اکثریتیں سب برابر ہیں، بغیر کسی مذہب کے لائسنس کے کسی مذہب کو کسی دوسرے مذہب پر فوقیت حاصل نہیں ہے۔

اسکے علاوہ خواجہ آصف نے کہا کہ کچھ علماء قائداعظم کو کافراعظم کہتے تھے جس پر جماعت اسلامی سخت احتجاج کیا۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>