اجمل وزیرکی آڈیو لیک کے بعدوزیر اعظم نے وزیراعلی خیبرپختونخواکو 3 بارفون کیوں کیا؟

عمران خان کی ٹیم کے ایک اور کھلاڑی پر کرپشن کا داغ، جانئے اس سارے معاملے پر حبیب اکرم کیا کہتے ہیں؟اجمل وزیر کی خفیہ آڈیو ملنے پر وزیر اعظم عمران خان نے وزیر اعلی کے پی کے کو تین بار فون کر کے کیا حکم دیا ؟

ایک اور کھلاڑی پر کرپشن کا داغ، اس سارے معاملے پر حبیب اکرم کیا موقف رکھتے ہیں، جانیےمکمل پروگرام دیکھئیے:https://video.dunyanews.tv/index.php/en/pv/Ikhtalafi%20Note/20775/ep-23974/All/2020-07-11

Posted by Ikhtalafi Note on Saturday, July 11, 2020

وزیراعظم عمران خان نے اپنے ٹیم کے ایک اور کھلاڑی کو اشتہارات میں سے منافع کی مد میں کرپشن کرنے کے الزام میں اسے اپنے عہدے سے ہٹا دیا، اس سارے معاملے کی اندرونی کہانی بتاتے ہوئے حبیب اکرم کا کہنا تھا کہ جو اجمل وزیر کی آڈیو لیک ہوئی ہے وہ چار دن پہلے کی ہے جسے کسی ذرائع نے وزیراعظم پاکستان عمران خان کے موبائل پر بھیجی تھی، جب یہ آڈیو عمران خان کو بھی گئی تب ان کے آفس میں ان کے ساتھ گورنر خیبر پختونخوا شاہ فرمان بھی بیٹھے ہوئے تھے۔

حبیب اکرم کے مطابق اجمل نذیر کی آڈیو سامنے آنے پر وزیر اعظم کو اس معاملے پر تھوڑا سا بریف کیا گیا جس پر انہوں نے وزیر اعلی خیبرپختونخوا محمود خان کو فون کیا اور اور کہا کہ آپ اجمل وزیر کو بلائیے اور ان کا موقف لیں اور ، انہیں کہیں کہ وہ ایک سائیڈ پر ہو جائیں، جہاں زیراعظم کا فون محمود خان کو آیا تو وہ اس وقت چکدرہ میں تھے، جہاں انہوں نے تقریب کو جلدی سے ختم کرکے فوری طور پر واپس آ کر اجمل وزیر کو طلب کیا اور ان سے ان کا موقف لیا۔

حبیب اکرم نے بتایا کہ محمود خان کی طبیعت ذرا نرم ہے تو انہوں نے اس پر کوئی سخت ایکشن نہ لیا لیکن ان سے اوپر والے خان صاحب یعنی وزیراعظم عمران خان ذرا سخت تو یہ آدمی ہیں جنہوں نے انہیں دوبارہ فون کرکے پوچھا کہ کیا معاملات ہیں، جس پر محمود خان نے انہیں کہا کہ اس پر ہم سوچ رہے ہیں، جس پر عمران خان صاحب نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سوچ کیا رہے ہیں انہیں واپس بلائیے اور ان کے سامنے ان کی آڈیو رکھیں۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے اجمل وزیر کے آگے ان کی آڈیو رکھتے ہوئے کہا کہ اب آپ کے پاس صرف دو ہی راستے ہیں، ایک یہ کہ آپ کو ڈی نوٹیفائی کردیا جائے جو آپ کے لئے اچھا نہیں ہوگا اور دوسرا یہ ہے کہ آپ اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دے، جس کے بعد اجمل وزیر نے اپنے کوچ دوستوں کو فون کرکے ان سے مشاورت کی جن کی جانب سے انہیں ڈٹے رہنے کا مشورہ دیا گیا، جس پر اجمل وزیر شروع میں تو ڈٹے رہے لیکن بعد میں پیچھے ہٹ کر ان کی جانب سے استعفی دے دیا گیا۔

حبیب اکرم نے کہا کہ اس سارے معاملے میں جو مجھے ایک چیز اچھی لگی ہے وہ ہے وزیراعظم کا فوری نوٹس لینا، وزیراعظم یہاں داد کے قابل ہیں کیوں کہ انہوں نے اس سارے معاملے میں کارروائی کا عمل اجمل وزیر کے استعفی کے بعد شروع کروایا پاک ہے وہ اس سارے معاملے میں کارروائی پر اثرانداز نہ ہو سکے، تاہم وزیراعظم کو اس معاملے کی طرح فیصل واوڈا کے کیس پر میں ایکشن لینا چاہیے اور ان سے پوچھنا چاہیے کہ اگر آپ کے پاس دوہری شہریت ہے تو آپ اپنا عہدہ چھوڑ دیں۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >