وزیراعظم عمران خان کی ڈائری کا راز کیا ہے؟

وزیراعظم عمران خان کی ڈائری کا راز کیا ہے؟ اس میں آج کل کونسی انفارمیشن ریکارڈ کررہے ہیں؟ کونسا بڑا بحران وزیراعظم کی وجہ سے آتے آتے ٹل گیا؟

وزیراعظم آفس کو کور کرنیوالے اے آروائی کے رپورٹر وزیراعظم عمران خان کو مسلسل ماموں بنانے کی کوششیں ہورہی تھیں، وزیراعظم عمران خان کی ایک ڈائری ہے جس میں ایک ایک چیز نوٹ ہورہی ہے، اس ڈائری میں یہ انفارمیشن ریکارڈ ہورہی ہے کہ کونسا بیوروکریٹ وزیراعظم کو غلط گائیڈ کرنے کی کوشش کررہا ہے، کونسا مشیر سست روی سے کام کررہا ہے یا کام نہیں کررہا، کونسے ایسے افسران ہیں جو دیا گیا ٹاسک مکمل نہیں کرپارہے اور کونسے ایسے افسران ہیں جن کی نالائقی اور نااہلی کا حکومت کو خمیازہ بھگتنا پڑرہا ہے۔

عبدالقادر نے مزید کہا کہ ہر میٹنگ میں وزیراعظم یہ ڈائری کھول کر بیٹھ جاتے ہیں کہ پرانی میٹنگز میں یہ باتیں نوٹ ہوئی تھیں، اب نیا کیا ہے؟ بیوروکریسی یہ سمجھتی ہے کہ بہت سی بیک ٹو بیک میٹنگز ہوتی ہیں، وزیراعظم یہ باتیں بھول جاتے ہوں گے لیکن ہر پچھلی میٹنگ کا ریکارڈ وزیراعظم نکال کر بیٹھتے ہیں اور ان سے پوچھا جارہا ہے کہ اس سےاگلا سٹیپ کیا ہے۔

عبدالقادر نے انکشاف کیا کہ پنجاب میں آٹے کا بحران آتے آتے ٹل گیا، اس معاملے میں بیوروکریسی نے وزیراعظم کو غلط گائیڈ کرنے کی کوشش کی لیکن انہوں نے خود مداخلت کی، ایک تو تین افسران کی ٹھیک ٹھاک کلاس ہوئی، وزیراعظم نے پنجاب حکومت سے کہا کہ فوری طور پر 35 ارب کی سبسڈی دیں اور جو گندم سرکاری طور پر خریدی گئی ہے، اسے فوری طور پر مارکیٹ میں لے آئیں، اس سے پہلے کہ بحران سنگین ہو۔ جب اکتوبر آئے گا تو پاکستان ضرورت کے تحت گندم امپورٹ کرلے گا، اگر وزیراعظم مداخلت نہ کرتے تو آج آٹا نہ مل رہا ہوتا اور قصوروار وزیراعظم کو ٹھہرایا جاتا۔

عبدالقادر کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کے فیصلوں کی عالمی سطح پر پذیرائی ہورہی ہے، کرونا وبا کے دوران وزیراعظم بابار کہتے رہے کہ کہیں کرونا سے زیادہ عوام بھوک سے نہ مرجائے، اس موقف کی بھی تائید ہورہی ہے۔ انہوں نے اس معاملے کو بہت اچھے انداز سے کاؤنٹر کیا ہے۔ بھارت نے مکمل لاک ڈاؤن کردیا لیکن دوسری طرف وزیراعظم کی کوشش تھی کہ پورا لاک ڈاؤن نہیں ہونا چاہئے

  • حرام خور بیوروکریٹس پر بھی نظر رکھنی چاہیے بیوروکریٹس کا کام جو بھی حکومت ہو اس کی پالیسیوں پر عملدرآمد کرے نہ کہ کیسی فرد واحد کی غلامی کرے اور حکومتی معاملات میں رکاوٹیں کھڑی کریں یا حکومت کو مس گائیڈ کرے اس طرح کے بیوکریٹس کو فوراً قانون کے مطابق برطرف کیا جائے تاکہ حکومت آپنی پالیسیوں پر جلد از جلد مکمل کرواسکے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >