صرف پیپلزپارٹی ہی نہیں مسلم لیگ ن بھی عزیر بلوچ سے ملی، شرجیل میمن

صرف پیپلزپارٹی ہی نہیں مسلم لیگ ن بھی عزیر بلوچ سے ملی، شرجیل میمن

لیاری گینگ وار کے مرکزی ملزم عزیر بلوچ سے ملاقاتوں اور انکشافات کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا کبھی پتہ چلتا ہے پیپلز پارٹی کی قیادت نے عزیر بلوچ کو سہارا دیا تو کبھی پتہ چلتا ہے کہ فلاں پارٹی عزیر بلوچ کی پشت پناہی کرتی رہی ہے۔

نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں سینئر اینکر ندیم ملک نے رہنما پیپلزپارٹی شرجیل انعام میمن سے سوال کیا کہ آخر پیپلزپارٹی کی عزیر بلوچ سے ملاقاتوں کی کیا وجہ تھی۔

جس پر شرجیل میمن بولے کہ ہم اکيلے تھوڑی عزير کے در پر گئے تھے، ن ليگ بھی گئی تھی، جس پر اینکر نے پوچھا کہ کیا مسلم لیگ ن سے غوث علی شاہ گئے تھے؟ تو شرجیل میمن نے کہا کہ غوث علی شاہ کی تصاویر بھی موجود ہیں ان کے علاوہ بھی کئی لوگ ملے ہیں۔

اس بات پر ندیم ملک نے ن ليگ کے رہنما مصدق ملک سے پوچھا کہ ایسا کیوں ہے؟ آخر کیا وجہ ہے کہ سیاسی جماعتوں کو اپنے کام کرانے کے لیے کسی راؤ انوار یا عزیر بلوچ کی ضرورت پڑتی ہے؟

اس سوال پر مصدق ملک نے جواباً کہا کہ جب حکومتيں فيل ہو رہی ہوں تو علاقے کے لوگ اپنے مسائل حل کرانے کیلئے بدمعاش ٹائپ کے لوگوں کو تلاش کرتے ہيں۔

پی ٹی آئی کے رہنما وليد اقبال نے بھی تقلید کرتے ہوئے کہا کہ جرائم پيشہ عناصر اور سياستدانوں کا گٹھ جوڑ کسی صورت نہيں ہونا چاہئے اس طریقہ کار اور ایسے لوگوں کی پشت پناہی کا سلسلہ تھمنا چاہیے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >