ن لیگ کے خلائی مخلوق سے معاملات طے ہونے کی پہلی مستند گواہی

دیر آید درست آید۔۔ پی ٹی آئی حکومت نے اوورسیز پاکستانیز کا بڑا مسئلہ حل کردیا۔۔ زلفی بخاری کا اہم اعلان۔۔ ۔ ن لیگ کے خلائی مخلوق سے معاملات طے ہونے کی پہلی مستند گواہی۔۔

اپنے وی لاگ میں صدیق جان کا کہنا تھا کہ
زلفی بخاری کا اپنے انٹرویو میں کہنا تھا کہ اوورسیز پاکستانیز جن کی زمینوں پر قبضے ہوجاتے ہیں ، انکے لئے فاسٹ ٹریک عدالتیں بنائی جارہی ہیں۔ یہ عدالتیں ایک ماہ کے اندر اندر انکے کیسز کا فیصلہ کریں گی۔ اس وقت سب سے زیادہ قبضے ہی اوورسیز پاکستانیوں کی زمینوں پر ہورہے ہیں، بیرون ملک سے پیسہ کماکر پاکستان لاتے ہیں اور ان سے زمینیں خرید کر پیسہ پاکستان میں ہی انویسٹ کرتے ہیں۔

ایک تو انکی زمینوں پر قبضے ہوتے ہیں دوسرا انہیں ہی عدالت جانا پڑتا ہے۔ ان پر ایک مرحلہ ایسا آتا ہے کہ وہ یہ سوچ کر واپس چلے جاتے ہیں کہ پلاٹ ملے یا نہ ملے، کہیں نوکری ہی نہ چلی جائے۔قبضہ مافیا اسی چیز کا فائدہ اٹھاتا ہے کہ اس نے تنگ آکر واپس چلے جانا ہے اسلئے کیسز لٹکاتے رہتے ہیں۔

بابر اعوان نے دعویٰ کیا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کے کندھوں پر سوار ہوکر دو بڑی پارٹیوں نے ان ڈائریکٹ این آراو لیا ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ کس طرح ان ڈائریکٹ این آر او لیا گیا ، کیسے سزا یافتہ مجرم نوازشریف جعلی رپورٹس کی بنیاد پر عدالتوں سے ضمانت لیکر باہر گئے۔ اسکے بعد آصف زرداری کی بھی ضمانت ہوگئی اور انکے کیسز کی رفتار بھی سست ہوگئی۔

بابراعوان کی طرف سے یہ کہنا بہت بڑی گواہی ہے کہ اپوزیشن کے اہم جگہ پر معاملات طے ہوئے اور اس جگہ پر معاملات طے ہونے کے بعد انہوں نے آرمی چیف کی ایکسٹنشن اور ایف اے ٹی ایف پر بھی ووٹ دیا۔

جس شخص نے پاکستان میں کرپشن اور لوٹ مار کی ہے، عوام کے ٹیکسوں کے پیسے کو لوٹا ہے وہ آج مزے سے لندن بیٹھا ہے کہ جو میرا کرنا ہے کرلو۔ میں پاکستان نہیں آؤں گا۔ بابر اعوان نے پیپلزپارٹی سے یہ بھی کہا کہ آپ نظام بدلنے کی بڑی باتیں کرتے ہیں تو پھر چھوڑیں سندھ حکومت اور کریں جدوجہد۔

  • These ‘Fast Track Courts’ will give the verdict in favor of the occupiers. That’s for sure. So, what’s good in it? The same old judges, the same old courts, the same old justice – wrapped in new paper.

    • Fast track would mean expediting the case and giving short dates for every hearing if not hearing the case everyday Overseas Pakistani cannot afford to appear in courts after every 15 days or a month for the case to be concluded in years.


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >