احسن اقبال کی ٹویٹ نے بھارتی میڈیا کو پروپیگنڈا کا کیسے موقع دیا؟

پاکستان کے سیاسی نقشہ جاری کرنے پر احسن اقبال کی تنقید۔۔ بھارتی میڈیا کو کیسے پروفیسر احسن اقبال نے پروپیگنڈا کا موقع دیا ؟ سنئے صدیق جان سے

اپنے ویڈیو لاگ میں صدیق جان نے کہا کہ پاکستان کا انتظامی نقشہ تو تھا لیکن سیاسی نقشہ نہیں تھا، پاکستان نے مقبوضہ کشمیر کو پاکستان میں شامل کرکے دنیا کو پیغام دیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر پاکستان کا حصہ ہے اور اسے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے ذریعے حل ہونا چاہئے۔

اس نقشہ پر بھارت بہت پریشان تھا لیکن پروفیسر احسن اقبال کے ٹویٹ نے بھارت کو پروپیگنڈا کا موقع دیدیا۔ احسن اقبال کا ٹویٹ بھارتی میڈیا کی زینت بن گیا ۔ ن لیگ کو حکومت پر تنقید ضرور کرنی چاہئے لیکن ایسے معاملات پر تنقید نہیں کرنی چاہئے جس سے دشمن کو فائدہ پہنچے۔ن لیگ کی طرف یہ عمل ریاست کو بتانے اور بلیک میل کرنے کیلئے ہے کہ ہمیں ڈیل اور این آراو دیدو ورنہ ہم ایسے اقدامات کریں گے کہ پاکستان کو عالمی سطح پر نقصان ہوگا۔

خیال رہے کہ احسن اقبال نے اپنے ٹویٹ میں لکھا تھا کہ پاکستان پر کیسے حکمران مسلط ہو گئے ہیں-پاکستان کے نقشے میں مقبوضہ کشمیر ہمیشہ سے شامل رہا ہے-سکول میں جغرافیہ کی کلاس میں ہمیشہ مقبوضہ کشمیر کیساتھ پاکستان کا نقشہ بنایا-کچھ کرنے کے قابل نہیں نقشوں کا ناٹک، سڑکوں کے نام کا ناٹک- کچھ کرنا ہے تو اسلامی سربراہی اجلاس بلاؤ۔

صدیق جان نے کہا کہ یہ معاملہ پارلیمنٹ میں آئے گا۔ ان معاملات کی بہت زیادہ علامتی حیثیت ہوتی ہے جب نیپال نے نقشہ جاری کیا، پاکستان نے بھی جاری کیا تو دنیا یہ جاننے میں لگ جاتی ہے کہ یہ معاملہ کیا ہے ۔ بھارتی مظالم اجاگر ہوتے ہیں، دنیا کو پتہ چلتا ہے کہ انڈیا ایسا کیا کررہا ہے کہ ہر پڑوسی اس سے تنگ ہے، ہر پڑوسی کے ساتھ اسکی لڑائی ہے ۔ ہر پڑوسی کے ساتھ زیادہ اور ظلم کررہا ہے، اپنے ملک میں اقلیتوں پر ظلم کررہا ہے اور پھر یہ معاملہ عالمی ایشو بن جاتا ہے

صدیق جان کے مطابق احسن اقبال کے ٹویٹ پر بھارتی میڈیا نے یہ خبریں چلائیں کہ حکومتی فیصلے کو پاکستان کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت اور دوسری بڑی پارٹی نہیں مان رہی تو دنیا کیسے مانے گی؟ یہ ایک حماقت ہے کہ اس قسم کی ٹویٹس کرکے بھارت کو پروپیگنڈا کا موقع دیا جائے۔ احسن اقبال نے یہ بہت زیادتی کی ہے پاکستان کے ساتھ۔ مسئلہ آپکا حکومت سے ہے ، کرپشن کا ہے ، آپکے ذاتی ایشوز ہیں لیکن ریاست کو بلیک میل کرنے کیلئے ایسے ایشوز کھڑے کرتے ہیں۔

صدیق جان کا کہنا تھا کہ ان لوگوں کو محب وطن کیسے کہہ سکتے ہیں جن کی ٹویٹس انڈین چینلز چلا کر کہیں کہ دیکھیں جی پاکستان کے اپنے لوگ پاکستان کے اقدامات پر سوالات اٹھارہے ہیں۔

  • پاکستان نے خود کو بھارت کے مقابلے میں لا کھڑا کیا ہم، ہم ریاستی شہری بھارت اور پاکستان کے توسیع پسندانہ کے سامنے
    سیسہ پلائی دیوار ثابت ہونگے ، کشمیر میں کوئی اس سے خوش نہیں ہے سوائے پاکستانی تنخواہ دار گماشتوں کے بھارت نے اگر دو ہزار انیس میں قانون باشندہ ریاست کو ختم کیا تو پاکستان گلگت بلتستان میں یہی عمل انیس سو چور میں کر چکا ہے ، اور یہ جو پاکستانی رپورٹر جو تجزیہ نگار بنے ہوئے ہیں اور ایک سانس میں سب پڑھتے ہیں یہ جموں کشمیر کے مسئلے سے بالکل نابلد ہیں

  • Jaani trying real hard for his salary increment but the problem is that his propaganda is loosing ground fast.

    Map that Ahsan Iqbal tweeted was in every class room of Pakistan up until 2004 when Gen Musharaf ordered its removal

  • this is NOTHING new, modi and doval came to his piggy sharifs wedding!! jindal came to see the kabaria in secret but it got found out. they pig never said anything against kulbhushan yadev! members of tooi party prefer modi over Imran so why are we surprised that these are agents of modi!


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >