پارلیمنٹ میں جے یو آئی ف اور پیپلزپارٹی اراکین گتھم گتھا،صدیق جان کی زبانی

پارلیمنٹ کے جوائنٹ سیشن میں ہنگامہ۔۔ مولانا فضل الرحمن کی جماعت کے اراکین اور پیپلزپارٹی کے اراکین آپس میں لڑپڑے. معاملہ ہاتھا پائی تک آن پہنچا، سینیئر اراکین نے بیچ بچاو کرایا.

صدیق جان نے کل پارلیمنٹ کے جوائنٹ سیشن کا احوال بتاتے ہوئے کہا کہ پیپلزپارٹی کے اراکین اسمبلی نے انتہائی غیر مہذب رویہ اختیار کئے رکھا۔ پیپلزپارٹی کے رہنما خواتین اراکین اسمبلی کی موجودگی میں گندے اشارے اور گھٹیا فقرے بازی کررہے تھے۔ اگر اسد قیصر ویڈیوز جاری کردیں تو پتہ چلے گا کہ پیپلزپارٹی کے رہنما کیسی نازیبا حرکات کررہے تھے۔

صدیق جان کے مطابق شہبازشریف اور بلاول کے بیانات میں تضاد دیکھنے کو ملا، شہباز شریف نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں غلط بیانی کی کہ پی ٹی ایم او رجے یو آئی ف کے اراکین کو پچھلے اسمبلی اجلاس میں تقریروں کا موقع نہیں دیا گیا۔ شہبازشریف نے اپنی کمٹمنٹس پر دونوں جماعتوں کو ناراض کیا۔ شہبازشریف نے کمال مہارت سے اسپیکر پر ملبہ ڈالنے کی کوشش کی کہ چونکہ آپ نے انہیں پچھلے سیشن میں تقریریں کرنے کی اجازت نہیں دی اسلئے یہ ناراض ہیں حالانکہ بلاول نے درست بات کی اور کہا کہ یہ اسلئے ناراض ہیں کہ ہم نے انہیں قانون سازی پر اعتماد میں نہیں لیا۔

صدیق جان کا کہنا تھا کہ اجلاس میں جماعت اسلامی اور جے یو آئی ف کا تضاد بھی دیکھنے کو ملا جب مغرب کی نماز ہوئی تو دونوں جماعتوں نے مطالبہ کیا کہ یہ ریاست مدینہ ہے ، نماز کا وقفہ دیا جائے لیکن وقفہ نہیں دیا جائے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جنہوں نے مطالبہ کیا وہ بجائے نماز مغرب ادا کرنے کے وہیں بیٹھے رہے او رنعرے بازی کرتے رہے۔

صدیق جان کے مطابق جو جماعتیں احتجاج کررہی تھی ، بلاول ان سے آنکھیں نہیں ملاپارہے تھے اور انہوں نے اپنا رخ دوسری طرف کرلیا۔جے یو آئی ف کے اراکین کھل پیپلزپارٹی اور ن لیگ کو کہہ رہے تھے کہ آپ نے حکومت سے ڈیل کرلی ہے اور واقعی ایسا ہی تھا۔

صدیق جان نے انکشاف کیا کہ جے یو آئی ف اور پیپلزپارٹی کے درمیان لڑائی کی وجہ جمعیت کے ایک رکن کا یہ بیان بنا کہ تمہیں صرف اپنی بلاول کی فکر ہے، تمہاری بلاول ہی سب کچھ ہے؟؟ ہمارا کوئی احساس نہیں ہے۔ جس کے بعد دونوں جماعتوں کے اراکین الجھ پڑے۔ مولانا فضل الرحمان کی جماعت کے اراکین شدید غصے میں تھے ، ایسا لگ رہا تھا جیسے انکی آنکھوں میں خون اترا ہو، ایک رکن نے کہا کہ تمہاری بلاول نے بات کرلی ہے تو اب سب ٹھیک ہے، تمہیں اپنی بلاول کی فکر ہے جس پر آغا رفیع اللہ لڑنے کیلئے سامنے آگئے تو جے یو آئی ف کے اراکین بھی آگے بڑھ گئے جس پر پیپلزپارٹی کے کچھ رہنماؤں نے بیچ بچاؤ کرایا۔

صدیق جان کے مطابق جے یو آئی ف کے رہنما پیپلزپارٹی کو کرپٹ اور موقع پرست کہتے رہے اور پارلیمنٹ سےباہر نکلنے کے بعد بھی جے یو آئی ف کے اراکین پیپلزپارٹی کو برا بھلا کہہ رہے تھے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ پہلے آف دی ریکارڈ برابھلا کہتے تھے، پھر ٹی وی سکرین پر کہنا شروع کردیا، اب کھل کر ایک دوسرے کے سامنے کہنا شروع کردیا ہے اور آنیوالے دنوں میں ایسا لگتا ہے کہ اب ایک دوسرے کی چھترول بھی کریں گے۔

صدیق جان کا کہنا تھا کہ جب مراد سعید نے تقریر شروع کی تو شہباز شریف اٹھ کر چلے گئے لیکن بلاول کو بیٹھنا پڑا کیونکہ بلاول مولانا اسد محمود کی تقریر کے بعد جانا چاہتے تھے۔ مرادسعید کو تقریر نہیں کرنے دی جارہی تھی، پیپلزپارٹی کے رہنما انتہائی مراد سعید سے متعلق بلاول کی موجودگی میں انتہائی گندی زبان استعمال کرتے رہے جن میں قادر پٹیل اور آغا رفیع اللہ پیش پیش تھے۔ پیپلزپارٹی کے رہنماؤں نے خواتین کی موجودگی کا بھی لحاظ نہ کیا اور باربار غیراخلاقی اور غلیظ زبان استعمال کرتے رہے۔پیپلزپارٹی کے رہنما گلی محلوں میں استعمال ہونیوالی گالیوں والی زبان استعمال کررہے تھے جس پر چئیرمین سینٹ نے اجلاس ملتوی کردیا۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>