صدیق جان کے ہاتھوں مریم نواز کی پریس کانفرنس کا پوسٹمارٹم

اپوزیشن کی قیادت کون کرے گا؟ مریم نواز نے اپنے والد کا شہباز شریف کے خلا ف فیصلہ سنادیا۔۔ مریم نواز نے اپنی پریس کانفرنس میں کونسے 5 بڑے جھوٹ بولے؟ سنئے صدیق جان سے

اپنے ویڈیو لاگ میں صدیق جان نے کہا کہ

اس پریس کانفرنس میں مریم صفدر کے ہی کیمپ کے لوگ موجود ہیں، اس پریس کانفرنس میں نہ شہباز شریف موجود تھے اور نہ ہی انکے کیمپ کے لوگ موجود تھے۔ اس پریس کانفرنس میں مریم نوا زنے غلط بیانی یہ کی کہ جتنا ظلم اسکے کارکنوں کیساتھ عمران خان حکومت نے کیا اتنا ظلم کسی حکمران نے نہیں کیا، مریم نواز شاید ماڈل ٹاؤن بھول گئی ہیں جہاں 14 لوگوں کو پولیس نے دن دیہاڑے کو گولیاں مارکرقتل کیا، لوگوں کے منہ پر گولیاں ماری گئیں۔شہبازشریف دور میں ہی ڈاکٹرز، نرسز یہاں تک کہ نابینا افراد پر ظلم ہوا۔

مریم نواز نے اپنی پریس کانفرنس میں اپنے کیس پر کوئی بات نہیں کی ، ساری سیاسی باتیں کی ہیں، انہوں نے یہ تک دعویٰ کیا کہ میں پاکستان کی پہلی خاتون ہوں جسے نیب نے گرفتار کیا، مریم نواز نے یہ بھی دعویٰ کیا انکے خلاف کیسز کمزور ہیں، یہ بھی غلط ہیں انکے خلاف کیسز کمزور نہیں ہیں وہ صرف ضمانت پر ہیں اور ابھی بھی سزا یافتہ مجرمہ ہیں۔

مریم نواز نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ انکے والد اس قدر علیل تھے کہ ڈاکٹرز انہیں آکر کہتے کہ جب بھی ہم آپکو دیکھتے ہیں تو ایسا لگتا ہے جیسے ہم آپکو آخری بار دیکھ رہے ہیں۔ نوازشریف باہر چلے گئے لیکن ایک دن بھی کسی ہسپتال داخل نہیں ہوئے۔ مریم نواز کہتی ہیں اسلئے حکومت نے انہیں باہر بھیجا کہ حکومت کو پتہ چل گیا تھا کہ نوازشریف کی حالت بہت تشویشناک ہے، یہ بات بھی غلط ہے ، حکومت نے نوازشریف کو نہیں بھیجا،جس نے بھیجا ہے وہ سب کو پتہ چل گیا ہے۔

مریم نواز کہتی ہیں کہ پانامہ ختم ہوچکا ہے، پانامہ ختم نہیں ہوا، پانامہ کے تینوں فیصلے اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیرسماعت ہیں۔

مریم نواز نے عمران خان کو طعنہ دیا کہ وہ مودی جو ہمارے گھر آجایا کرتا تھا وہ عمران خان کا فون بھی نہیں اٹھارہا۔ یہ عمران خان کو طعنے سے زیادہ اعتراف جرم ہے کہ ہاں ہمارے مودی سے تعلقات تھے، مودی بغیر ویزے کے ہمارے گھر آجایا کرتے تھے اور ہماری شادیوں میں شریک ہوتے تھے۔

مریم نواز نے اپنی پریس کانفرنس میں اہم اعلان یہ کیا ہے کہ اے پی سی کی قیادت مولانا فضل الرحمان کریں گے۔ نوازشریف کاحکم ہےکہ مولانا کے ساتھ تعاون کیا جائے، مولانا فضل الرحمان جیسا کہیں ویسا ہی کیا جائے۔ حالانکہ مولانا فضل الرحمان رکن اسمبلی نہیں ہیں ، وہ ہارے ہوئے ہیں جبکہ شہبازشریف اپوزیشن لیڈر ہیں۔

نوازشریف فوج پر حملے کرتے ہیں جبکہ شہبازشریف فوج سے اچھے تعلقات کے حامی ہیں، اگر نوازشریف آج لندن میں موجود ہیں تواسکا کریڈٹ شہباز شریف کو جاتا ہے۔

مریم نواز کا دعویٰ وہ شہبازشریف جووزیراعظم بننا چاہتےہیں،ان کو ان کی بھتیجی اوربھائی اوپوزیشن کی قیادت تک نہیں دینا چاہتا۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >