مریم نوازکی بلٹ پروف گاڑی کوپتھراؤ سے نقصان،مریم کے دعوے میں کتنی صداقت؟

مریم نواز کی بلٹ پروف گاڑی کے شیشوں پر کریک کیسے پڑے؟ مریم نواز کے دعوے میں کتنی صداقت ہے؟ کیا بلٹ پروف گاڑی کے شیشے پر ڈنڈے، پتھر برسائے جائیں یا گولی ماری جائے تو شیشے پر کریک پڑتے ہیں؟ دیکھئے کامران صدیقی کا تفصیلی ویڈیو لاگ

کامران صدیقی کا کہنا تھا کہ میں نے ایک دوست سے رابطہ کیا جس کی ورکشاپ تھی اور اسکا بلٹ پروف گاڑیوں سے واسطہ رہتا تھا تاکہ اس سے معلومات لے سکوں تو اس نے کہا کہ اس گاڑی پر 100 فیصد پتھر برسائے گئے ہیں۔ گاڑی کی سیکیورٹی اندر سے ہوتی ہے اور اندر بیٹھے مسافروں کو محفوظ کیا جاتا ہے۔ گاڑی پر اگر پتھر ماریں گے یا ڈنڈے برسائیں گے تو ڈینٹ پڑیں گے۔لیکن اگر گولی ماریں گے تو وہ آر پار نہیں ہوگی۔

کامرنا صدیقی کے مطابق یہ ایک الگ بحث ہے کہ مریم نواز کی گاڑی پر کس نے پتھراؤ کیا، وہ پنجاب پولیس تھی، ن لیگ کے اپنے کارکن تھے یا پی ٹی آئی کے کارکن تھے لیکن مریم نواز کی گاڑی پر پتھر برسائے گئے تھے۔ پتھراؤ سے ہی گاڑی کی ڈیمیج ہوئی ہے۔

اس پر ایک ماہر کا کہنا تھا کہ گاڑی جو بھی خریدی جاتی ہے وہ بنیادی طور پر نارمل گاڑی ہی ہوتی ہے ، بعد میں اسے بلٹ پروف کیا جاتا ہے۔ گاڑی کے دروازے اور باڈی بھی عام گاڑیوں کی طرح ہوتی ہے، اسے گولی سے بچانے کیلئے اندر پلیٹیں ایڈ کی جاتی ہیں۔ شیشے پر کوئی پتھر یا گولی لگے تو وہ پار نہیں جائے گی لیکن اگر کوئی چیز لگے گی تو ٹوٹے گا۔ سائیڈ گلاس بھی ٹوٹیں گے لیکن اندر بیٹھے شخص کو نقصان ہوگا۔

اس ماہر نے ایک تصویر دکھاتے ہوئے کہا کہ جب گاڑی پر پتھر یا فائر مارے جاتے ہیں تو شیشے کی ایسی حالت ہوتی ہے لیکن مریم نواز کی گاڑی کے شیشے کی ایسی حالت نہیں تھی۔ جب گاڑی پر فائر کیا جاتا ہے تو شیشے کی سکرین بالکل اندھی ہوجاتی ہے اور باہر کی کوئی چیز نظر نہیں آتی لیکن اندر بیٹھا شخص محفوظ رہتاہے۔

ماہر نے مزید بتایا کہ گاڑی کو مختلف اسلحہ کو سامنے رکھ کر بلٹ پروف بنایا جاتا ہے ،میاں صاحب کی گاڑی بی 6 ہے۔ شوروم سے زیرو میٹر گاڑی خریدی جاتی ہے اور بعدازاں اسے ورکشاپ میں بلٹ پروف کیا جاتا ہے۔ ایک گاڑی بلٹ پروف کرنے پر خرچہ 60 لاکھ سے ایک کروڑ تک ہوتا ہے۔

ماہر کا کہنا تھا کہ بلٹ پروف گاڑی کا ایکسیڈنٹ ہوتو وہ ڈیمیج ہوتی ہے، شیشے یا باڈی پر ڈنڈے مارے جائیں تو شیشے پر کریک آتے ہیں اور گاڑی پر ڈینٹ پڑتے ہیں۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>