احسان اللہ احسان سیکیورٹی اداروں کی تحویل سے کیسے فرارہوا؟ خودہی بتادیا

کالعدم ٹی ٹی پی کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان نے اپنے فرار ہونے کی تفصیل بتادی، آن لائن ٹیکسی میں فرار ہوا

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کا سابق ترجمان احسان اللہ احسان رواں سال فروری کے مہینے میں ریاست پاکستان کی تحویل سے فرار ہوا تھا جس کے بعد کسی حکومتی نمائندے یا فوج کےترجمان نے اس کی تفصیلات نہیں بتائیں، مگر میڈیا پر یہ خبر ذرائع کے حوالے سے چلنے لگی کے کسی حساس آپریشن کے دوران احسان اللہ احسان فرار ہو گیا ہے۔

احسان کے فرار ہونے کے حوالے سے کوئی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔ صحافیوں نے متعدد بار پاکستانی فوج کے شعبہ ابلاغ عامہ سے سوالات کئے لیکن آج تک ان سوالات کے حوالے سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

17 فروری کو پاکستان کے وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے بالآخر تصدیق کردی کہ احسان اللہ احسان پاکستان کی حراست سے فرار ہوچکا اور انہوں نے یہ بھی کہا کہ لوگوں کو اس حوالے سے جلد ہی اچھی خبر ملے گی۔

فرار ہونے والا احسان اللہ احسان تو ابھی گرفتار نہیں ہوا مگر وہ اکثر صحافیوں سے رابطے میں رہتا تھا، صحافی بار بار اس سے پوچھتے کہ آخر وہ کس طرح سے حراست سے نکلا جس کا جواب اس نے آڈیو ٹیپ کی شکل میں یوٹیوب پر دیا۔

احسان اللہ احسان نے کہا کہ جب اس نے 2017 میں پاکستانی اداروں کے سامنے سرینڈر کیا تو اسے پشاور میں رکھا گیا اور پہلے گھر میں تقریباً 18 ماہ قید رکھا گیا، جس کے بعد پشاور میں ہی کسی دوسرے گھر منتقل کردیا گیا، جہاں سے وہ جنوری 2020 میں فرار ہوا۔

پاکستانی طالبان کے سابق ترجمان نے بتایا کہ جس گھر میں وہ مقیم تھا اس کی عقبی سائیڈ پر ایک چھوٹا سا دروازہ تھا جسے تالا لگا کر بند کردیا گیا تھا، یہی راستہ میرے لئے بہترین تھا کیونکہ وہاں رہائشی علاقہ تھا اور نکلنا آسان تھا۔ اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ پہلے اس دروازے کی کنڈی کو توڑا جائے تاکہ نکلتے وقت کوئی رکاوٹ نہ ہو، فرار سے دو دن پہلے میں نے یہ کنڈی توڑ دی تھی۔

اس نے بتایا کہ سیکیورٹی اہلکاروں کا کمرہ اس گھر کے صحن میں تھا اور اہلکاروں کو بلا ضرورت گھر کے اندر آنے کی اجازت نہیں تھی۔ اس نے مزید بتایا کہ وہاں سے فرار ہونے کیلئے اسے سواری کی بھی ضرورت تھی جس کیلئے اس نے آن لائن ٹیکسی کا انتخاب کیا۔

احسان اللہ احسان کے مطابق اسے سواری کی ضرورت تھی، جس کے لیے اس نے آن لائن ٹیکسی بک کرائی کیونکہ موبائل تو اس کے پاس پہلے سے ہوتا تھا اور وہ اسے استعمال کرتا تھا۔احسان اللہ احسان کے مطابق آن لائن ٹیکسی میں حاجی کیمپ اڈے تک سفر کیا، جس کے بعد ایک اور گاڑی بک کراکر وہ پاکستان کی حدود سے فرار ہو گیا۔ پوری رات سفر کیا اگلے دن بھی سفر میں گزرا، 20 گھنٹوں میں ایک ایسے مقام تک پہنچ گیا جہاں پاکستان کی حدود ختم ہوجاتی ہیں۔

اپنے بھاگنے کی وجہ اس نے یہ بتائی کہ پاکستانی اداروں نے اس سے کئے گئے معاہدے کا پاس نہیں کیا، اس لئے اس نے فرار ہونے کا راستہ اختیار کیا۔

اس معاہدے کے حوالے سے پاکستان میں سرکاری حکام کی جانب سے آج تک کچھ نہیں کہا گیا تاہم احسان اللہ احسان کا دعویٰ کہ اس سے وعدہ کیا گیا تھا کہ اس کے سرینڈر کردینے کے بعد اس کے خلاف پرانے سارے کیس ختم کردئیے جائیں گے اور نئے کیسز بھی نہیں بنائے جائیں گے اور اس کی مالی مدد بھی کی جائے گی۔

  • لوگ اب اتنے بھی بے وقوف نہیں ہوتے جتنا احسان نے سمجھ لیا ہے…. دو دن پہلے کنڈی توڑ ڈالی اور کسی نے چیک تک نہ کی… قید میں موبائل بھی ساتھ تھا واہ یہ تو سٹیٹ گیسٹ معلوم ہورھا ہے… پھر موبائل سکین بھی نہیں ہورھا تھا احسان بھائ رھنے دو اب سارے ہی ماموں نہیں ہوتے
    یہ بتاو کتنے ڈالر لگے اور بس جیمز بانڈ کی کہانیاں اپنے بچوں کے لیئے بچا رکھو


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >