پولیس نے ملزم شفقت کو کیسے گرفتار کیا؟ اندرونی کہانی سامنے آگئی

مرکزی ملزم عابد کے ساتھی اور زیادتی کا نشانہ بنانے والے شفقت کی گرفتاری کس طرح عمل میں آئی ؟ تہلکہ خیز انکشاف سامنے آگیا

نجی ٹی وی چینل 92 نیوز کی رپورٹ کے مطابق عابد کے ساتھ رابطوں میں جو نمبر ملے تھے پولیس ان نمبرز پر بھی کام کر رہی تھی ان میں سے دو ایسے نمبرز سامنے آئے جن پر سب سے زیادہ رابطے تھے ان میں سے ایک سم فیصل اور دوسری سم امانت نامی شخص کے نام سے تھی جو ضلع اوکاڑہ کے رہنے والے تھے ۔

نجی چینل کے مطابق پولیس نے انہیں 3 روز قبل پکڑا اور ان سے تفتیش کی گئی تو یہ بات سامنے آئی کہ فیصل اور امانت کے نام سے نکلی ہو ئی سمیں شفقت استعمال کر رہا ہے شفقت جو کہ دیپالور کا رہائشی تھا اس کے اپنے نام پر بھی پانچ سمیں تھیں جن میں دو جاز، ایک ٹیلی نار ، ایک یو فون اور ایک زونگ کی تھی ۔ شفقت اکثر فیصل سے رابطے میں رہتا تھا ، شفقت نے اپنی موبائل سم فیصل کے موبائل میں ڈالی تھی

ذرائع کے مطابق فیصل اور امانت سے تفتیش کے بعد ان دونوں کے ذریعے شفقت کو ٹریس کیا گیا اورپولیس نے ان دونوں کی مدد سے شفقت کو بلوایا اور پولیس نے ان کے ذریعے شفقت کو دھرلیا ۔ بعدازاں پولیس نے کامیابی ملنے پر ان دونوں افراد کو رہا کردیا جنہوں نے شفقت کو گرفتار کروانے میں پولیس کی مدد کی۔

نجی چینل کے مطابق ملزم کے انکشافات سے یہ چیز سامنے آئی ہے کہ عابد اور شفقت اور ان کا تیسرا ساتھی مل کر ڈکیتی کی وارداتیں کرتے تھے اور زیادہ تر شام چھ بجے سے لیکر رات ایک بجے تک اسی موٹروے کے اردگرد وارداتیں کرتے تھے ۔ ڈکیٹی کی رات تیسرا ساتھی واردات سے قبل ہی واپس مڑگیا ، ان دونوں نے شاہدرہ سے دہی بھلے کھائے اور واردات کیلئے نکل پڑے۔

اس رات بھی جب وہاں ہر ایک گاڑی کھڑی ہوئی تو پہلے پندرہ منٹ دور کھڑے ہو کر شفقت اور عابد گاڑی کو دیکھتے رہے ، بعدازاں عابد گاڑی کے پاس گیا گاڑی میں بچوں اور عورت کو دیکھنے کے بعد شفقت کو اشارہ کر کے بلوایا ۔ عابد نے ہاتھ سے شیشہ توڑا تو اس کا ہاتھ بھی زخمی ہو گیا جس کے بعد بچوں اور ان کی والدہ متاثرہ عورت کو نیچے لیکر گئے اور زیادتی کا نشانہ بنا کر اور اس سے سب چھین کر وہاں سے کرول گاوں کی طرف چلے گئے ۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مرکزی ملزم عابد کے ہاتھ کے زخمی ہونے کی پولیس بھی تصدیق کرتی ہے وہاں ٹوٹے ہوئے شیشے سے ملنے والے خون کے نمونے بھی عابد کے خون سے میچ ہو چکے ہیں ۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >