”پولیس نے خاتون سے کہا کہ اگر کسی کودنیا میں سزادی جائے توآخرت میں سزاسے بچ جاتاہے“

جنسی زیادتی کے ہولناک کیسز اور ان کے مقدمات کی راہ میں حائل رکاوٹیں

نجی ٹی وی چینل کے پروگرام "ذرا ہٹ کے” میں جنسی زیاتی کا شکار بننے والی بچیوں اور ایسے کیسز کے رپورٹ نہ ہونے یا پھر مقدمہ درج کرانے سے گریز کرنے سے اغراض و مقاصد پر بحث کے دوران خاتون وکیل نے ایک ایسے کیس کا بتایا جس میں ایسے مقدمات کی راہ میں حائل بڑی رکاوٹ سامنے آئی۔

ایڈووکیٹ آسیہ منیر نے ایک کیس کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اس کیس میں اسلام آباد میں ایک شخص نے اپنی کمسن بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنایا اور کئی بار اس کا مرتکب ہوا، اس شخص کو اس کی بیوی نے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا اور اسے پولیس کے حوالے کر دیا۔

خاتون وکیل نے بتایا کہ پولیس والوں نے اس خاتون کو مشورہ دیا کہ اگر کسی کو دنیا میں سزا دی جائے تو وہ آخرت میں سزا سے بچ جاتا ہے اس لئے وہ خاتون اپنے شوہر کو سزا مت دلائے تاکہ آخرت میں اس کا کڑا احتساب ہو اور اللہ کے حضور اسے سخت سزا ملے۔

انہوں نے بتایا کہ ایسے واقعات اس لیے رونما ہوتے ہیں کیونکہ ہمارے معاشرے میں مردوں کو زیادہ آزادی ہے اس لیے معزز جج بھی ایسے واقعات میں صلح ہونے کے بعد مجرموں کو رہا کر دیتے ہیں۔

  • It is correct only in case the culprit comes forward repents and gets the due Islamic punishment, then only there is that possibility of forgiveness in the hereafter, there are many instances in the Seerah of Holy Prophet PBUH regarding this…


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >